آخر فروری کا مہینہ 28 دنوں کا کیوں ہوتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فروری سال کا وہ واحد مہینہ ہے جو عام طور پر 28 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر چار سال بعد اس میں ایک دن کا اضافہ کیا جاتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ فروری ہی کو 28 دنوں کا مہینہ کیوں بنایا گیا اور یہ روایت کب سے جاری ہے؟ آسان الفاظ میں ہمیں 28 دنوں کے مہینے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور یہ نظام ہماری زندگی کا حصہ کیسے بنا؟
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں موجودہ کیلنڈر کی تاریخ پر نظر ڈالنا ہوگی۔ آج دنیا میں جو کیلنڈر رائج ہے اسے گریگورین کیلنڈر کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل جولین کیلنڈر کی ترمیم شدہ شکل ہے، جو قدیم روم میں رائج تھا۔
قدیم رومی کیلنڈر چاند کی گردش پر مبنی تھا، بالکل اسی طرح جیسے اسلامی کیلنڈر۔ اس میں سال کو تقریباً 365.
یعنی ابتدا میں جنوری اور فروری کیلنڈر کا حصہ ہی نہیں تھے۔ مثال کے طور پر 738 قبل مسیح میں رومی باشندے 10 مہینوں کا کیلنڈر استعمال کرتے تھے اور سال کا آغاز مارچ سے ہوتا تھا۔ بعد میں تقریباً 700 قبل مسیح میں باقی ماندہ دنوں کو شامل کرنے کے لیے جنوری اور فروری کا اضافہ کیا گیا۔
اس دور میں جنوری سال کا پہلا اور فروری آخری مہینہ تھا۔ یہ ترتیب 424 قبل مسیح تک برقرار رہی، بعد ازاں فروری کو سال کا دوسرا مہینہ بنا دیا گیا۔
46 قبل مسیح میں جولیس سیزر نے رومی کیلنڈر میں بڑی اصلاحات کیں۔ اس نے فروری کے علاوہ تمام مہینوں کو 30 یا 31 دن کا کر دیا۔ اس نظام میں فروری 29 دنوں کا ہوتا تھا اور ہر چار سال بعد اسے 30 دن کا کر دیا جاتا تھا۔
بعد میں رومی شہنشاہ آگستس نے فروری سے ایک دن کم کر کے اسے 28 دنوں کا کر دیا اور اگست کو 31 دنوں والا مہینہ بنا دیا۔ تب سے سال کے سات مہینے 31 دن، چار مہینے 30 دن اور ایک مہینہ 28 دن کا ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ لیپ ایئر کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ بظاہر ایک اضافی دن کا اضافہ معمولی لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ بہت اہم ہے۔ گریگورین کیلنڈر زمین کی سورج کے گرد گردش پر مبنی ہے اور ایک سال کو 365 دن کا مانتا ہے، جبکہ اصل شمسی سال 365 دن، 5 گھنٹے، 48 منٹ اور 56 سیکنڈز پر مشتمل ہوتا ہے۔
اگر اس اضافی وقت کو نظر انداز کر دیا جائے تو ہر سال فرق بڑھتا جائے گا اور موسموں کی ترتیب بدلنے لگے گی۔ مثال کے طور پر اگر لیپ ایئر کا نظام نہ ہو تو تقریباً 700 برس بعد شمالی نصف کرے (بشمول پاکستان) میں گرمیوں کا آغاز جون کے بجائے دسمبر میں ہونے لگے گا۔
لیپ ایئر ہر چار سال بعد ایک اضافی دن شامل کر کے اس فرق کو کافی حد تک پورا کر دیتا ہے۔ تاہم یہ نظام مکمل طور پر درست نہیں، کیونکہ ہر چار سال بعد تقریباً 44 منٹ کا اضافی فرق باقی رہ جاتا ہے، جو تقریباً 129 برسوں میں ایک دن کے برابر ہو جاتا ہے۔
اسی وجہ سے صدی کے اختتامی سال، جیسے 1900، لیپ ایئر نہیں ہوتے، البتہ وہ صدی سال جو 400 پر مکمل تقسیم ہو جائیں، جیسے 2000، لیپ ایئر شمار کیے جاتے ہیں۔
اس کے باوجود بھی معمولی فرق باقی رہ جاتا ہے، جسے لیپ سیکنڈز کے ذریعے ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔
مختصراً، لیپ ایئر کا مقصد گریگورین کیلنڈر کو زمین کی اصل شمسی گردش کے مطابق رکھنا ہے تاکہ موسم اور وقت کی ترتیب برقرار رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہر چار سال بعد لیپ ایئر جاتا ہے دنوں کا ہوتا ہے سال کا کر دیا
پڑھیں:
5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا
تیمور جھگڑا - فوٹو: فائلاپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھایا گیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت بڑھانے پر وزیراعظم کی بجائے وزیر پیٹرولیم قیمت بتاتے رہے ہیں، جب وفاقی وزرا تھک گئے تو اوگرا کو کہا کہ آپ خود قیمتیں ایڈجسٹ کریں گے۔
پٹرول کی قیمتیں روزانہ بڑھائی جا رہی ہے، گزشتہ 5 دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھایا گیا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے: نوٹیفکیشن
انہوں نے کہا کہ بھارت میں پیٹرول 293 روپے، ڈیزل 274 روپے لیٹر تھا جو تبدیل نہیں کیا گیا۔
اس دوران سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر کا کہنا تھا کہ ہمیں تحفظات ہیں، آئی ایم کے ساتھ جو معاہدہ کیا جارہا ہے وہ کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ امریکا سے 10 بلین ڈالر ملیں گے تو بتایا جائے کہ کیا بات ہوئی، بتایا جائے یہ کس مد میں پاکستان کو ملیں گے؟