ہمارے بیڈرومز علیحدہ ہیں، شمعون عباسی کی چوتھی بیوی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
پاکستان کے نامور اداکار وہدایت کار شمعون عباسی کی چوتھی اہلیہ شیری شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے بیڈ رومز علیحدہ علیحدہ ہیں۔
فلمساز شمون عباسی اور شیری شاہ ایک مشہور سیلیبریٹی جوڑا ہیں جو کئی سالوں سے ایک ساتھ ہیں، ابتدا میں دونوں کے درمیان بہت اچھی دوستی تھی جو محبت میں تبدیل ہوگئی۔
بعد ازاں، دونوں نے ایک دوسرے کی زندگی اور کیریئر میں بھرپور ساتھ دیا ہے اور مداح ہمیشہ انہیں نیک تمنائیں دیتے رہتے ہیں۔
شمون عباسی اور شیری شاہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں ایک ساتھ شرکت کی اور اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں کھل کر گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ایک دوسرے کو ہمیشہ اسپیس دیتے ہیں اور یہی بات ان کی شادی کو خوبصورت بناتی ہے اور ان کے درمیان بہتر رابطے کا سبب بنتی ہے۔
شیری شاہ نے انکشاف کیا کہ ان کے علیحدہ کمرے ہیں اور یہ فیصلہ ان کے لیے بہت اچھا ثابت ہوا ہے۔
شمون اور شیری کا ماننا ہے کہ ایک دوسرے کو اسپیس دینا ضروری ہے کیوں کہ ہر انسان کو سکون حاصل کرنے کے لیے اپنی ذاتی جگہ کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کو یہ آزادی دیتے ہیں۔
تاہم وہ ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور بات چیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ذاتی اسپیس رکھنا ایک صحت مند عمل ہے اور وہ ہمیشہ اس اصول پر عمل کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ شمعون عباسی کی پہلی شادی اداکارہ جویریہ عباسی سے ہوئی تھی جن سے ان کی ایک بیٹی عنزیلہ عباسی ہیں۔
انہوں نے اداکارہ حمائمہ ملک سے دوسری شادی کی جو ایک سال بعد طلاق پر ختم ہو گئی۔
ان کی تیسری شادی جویریہ رندھاوا سے ہوئی جن سے بھی ان کی ایک بیٹی ہے اور اب اس وقت وہ اداکارہ شیری شاہ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں اور ان کی شادی کو پانچ سال ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ شمعون عباسی اور جویریا عباسی نے ایک دوسرے پر کبھی ایک دوسرے پر تنقید نہیں کی ہے۔ البتہ ان کی بیٹی انزیلا کی شادی کے میں شمعون عباسی کی عدم موجودگی پر ان کے درمیان چپقلش کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایک دوسرے شیری شاہ ہیں اور ہے اور
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔