عمران خان کی فیملی جس ڈاکٹر کو چاھتے ہیں، اسے میڈیکل بورڈ شامل کیا جائے، شیخ رشید
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے عمران خان کی آنکھ کے مسئلے پر اُن کی بہنیں جو مطالبہ کررہی ہیں، اُسے مان لینا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق شیخ رشید احمد نے کہا کہ عمران خان کی آنکھ مسئلہ بہت اہم ہے۔ علیمہ خان اور فیملی کے دیگر افراد جس ڈاکٹر کو چاھتے ہیں، اسے میڈیکل بورڈ شامل کر دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے دردمندانہ استدعا ہے کہ اپیلیں سنی جائیں۔ لوگوں کو 40، 40 سال سزائیں ہوئیں اپیلیں نہیں سنی جارہیں۔
انہوں نے کہا کہ خدارا لوگوں کی اپیلیں سن لی جائیں۔ میرے بھتیجے کو بھی چالیس سال سزا ہوئی، میرے بھتیجے نے زندگی میں فیصل آباد بھی نہیں دیکھا مگر سزا ہوگئی۔ طویل سزاؤں سے لوگوں کے گھر بار فیملی تباہ ہوگئی۔
شیخ رشید نے کہا کہ کمر توڑ مہنگائی ہے بے۔ روزگاری عروج پر ہے اور بازاروں میں خریداری ختم ہوگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔