پنجاب حکومت کاریئل اسٹیٹ کیلئے اسٹامپ ڈیوٹی میں رعایت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
سٹی42: پنجاب حکومت نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں تیزی لانے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے جائیدادوں کی منتقلی پر اسٹامپ ڈیوٹی میں بڑی رعایت اور استثنیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔
حکومت نے کمپنیوں کے انضمام کی صورت میں اسٹامپ ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے ڈیولپمنٹ اور ہاؤسنگ اتھارٹیز کے ساتھ انضمام پر بھی اسٹامپ ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔ نجی کمپنیوں کے ساتھ انضمام پر بھی اسٹامپ ڈیوٹی میں چھوٹ دی جائے گی۔ یہ اقدام کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کے سیکشن 15 اے کے تحت ہوگا۔
گاڑیوں کی نمبر پلیٹس ڈجٹ نمبر میں اضافہ،3کی بجائے4 ہندسے ہونگے
پنجاب حکومت کے مطابق اس فیصلے سے ہاؤسنگ سیکٹر میں رکاوٹیں کم ہوں گی، بڑے ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہوں گے اور شہری ترقی کے عمل کو تیز کیا جا سکے گا۔
اس کے علاوہ ڈیولپمنٹ اتھارٹیز، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز اور نجی کمپنیوں کی شراکت داری کو فروغ ملے گا، جس سے رہائشی منصوبوں کی تکمیل میں آسانی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 اسٹامپ ڈیوٹی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔