یہ مذاکرات بھی پہلے دور کی طرح بالواسطہ ہوں گے اور عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعدی کی ثالثی میں جنیوا میں واقع عمانی سفارت خانے میں منعقد کیے جائیں گے۔ مذاکرات کے اس دور کا موضوع بھی جوہری معاملہ ہے، اور امکان ہے کہ اس مرحلے میں یورینیم افزودگی، اس کی سطحوں، پابندیوں کے خاتمے، اور ایران کے اقتصادی فوائد کے امور پر غور کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور آج دوپہر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں عمان کی ثالثی سے منعقد ہو گا۔ تسنیم کے مطابق یہ مذاکرات بھی پہلے دور کی طرح بالواسطہ ہوں گے اور عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعدی کی ثالثی میں جنیوا میں واقع عمانی سفارت خانے میں منعقد کیے جائیں گے۔ مذاکرات کے اس دور کا موضوع بھی جوہری معاملہ ہے، اور امکان ہے کہ اس مرحلے میں یورینیم افزودگی، اس کی سطحوں، پابندیوں کے خاتمے، اور ایران کے اقتصادی فوائد کے امور پر غور کیا جائے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی ایرانی مذاکراتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ وفد میں مجید تخت‌ روانچی (سیاسی معاون)، اسماعیل بقائی (ترجمان)، کاظم غریب‌ آبادی (قانونی و بین الاقوامی امور کے معاون)، حمید قنبری (اقتصادی سفارت کاری کے معاون) اور فنی، اقتصادی اور قانونی ماہرین بھی شامل ہیں۔

امریکی وفد کی قیادت اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر (ٹرمپ کے داماد) کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق پابندیوں کا مکمل خاتمہ کسی بھی سفارتی عمل کا لازمی جزو ہے، اور اس دور میں اقتصادی اور فنی ماہرین کی موجودگی اسی بات کی نشاندہی کرتی ہے۔ گزشتہ رات سید عباس عراقچی نے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقات کی، جس میں ایران کے جوہری امور اور پابندیوں کے خاتمے سے متعلق مؤقف اور نکات واضح کیے گئے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے عمان اور خاص طور پر عمانی وزیر خارجہ کی سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں کوششوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ ایران نتیجہ خیز سفارت کاری کے ذریعے قوم کے جائز مفادات اور حقوق کے تحفظ اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنجیدہ ہے۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ سفارتی راستے پر واپسی کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی علاقائی کوششوں کے تناظر میں دیکھا۔ یہ فیصلہ مختلف علاقائی ممالک کی جانب سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطوں اور مشاورت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے اختلافات کے حل کے لیے مکالمے کو واحد راستہ قرار دیا۔

ایران کی اس سفارتی عمل میں شمولیت کا مطلب صرف جوہری معاملے پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ ایران اس وقت اس عمل میں شامل ہوا جب اسے یقین دہانی کرائی گئی کہ مذاکرات صرف جوہری موضوع تک محدود ہوں گے۔ ایران نے نئے مذاکرات کے لیے علاقائی رابطوں کے ذریعے دو شرائط پیش کیں، جنہیں امریکی فریق نے قبول کیا جن میں پہلی شرط یہ تھی کہ افزودگی کے اصول کو تسلیم کیا جائے اور دوسری شرط مذاکرات صرف جوہری موضوع تک محدود ہوں۔ امریکہ کی جانب سے ان شرائط کو قبول کرنا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ واشنگٹن اپنے سابقہ اقدامات کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔

اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟