ایرانی پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260217-01-22
تہران /جنیوا /واشنگٹن /براتسلاوا (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ’اسمارٹ کنٹرول آف دی اسٹریٹ آف ہرمز‘ مشقوں کا آغاز کردیا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان مشترکہ مشقوں کی نگرانی اور فیلڈ مانیٹرنگ پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل محمد پاکپور کر رہے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنگی مشقوں کے بنیادی مقاصد میں پاسداران انقلاب بحریہ کی یونٹس کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا، آبنائے ہرمز کے علاقے میں ممکنہ سیکورٹی اور فوجی خطرات کی صورت میں جوابی فوجی کارروائی سے متعلق منصوبوں کا جائزہ لینا اور خلیج و بحیرہ عمان میں ایران کی جغرافیائی و اسٹریٹجک اہمیت کا مؤثر استعمال شامل ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ آج تک کوئی کامیاب معاہدہ نہ کر سکا، مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے تو قانون کے مطابق اقدام کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ جاری جوہری معاہدے کے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کو بہت مشکل قرار دیدیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ہنگری کے دورے پر وزیرِاعظم وکٹر اوربان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کی۔ان کے بقول ایران کے ساتھ معاملات اس لیے پیچیدہ ہیں کیونکہ وہاں ہم ایسے سخت گیر شیعہ مذہبی رہنماؤں سے بات کر رہے ہیں جو ملکی فیصلے بین الاقوامی سیاست یا جغرافیائی حقائق کو مدنظر رکھ کر نہیں بلکہ مذہبی عقائد کی بنیاد پر کرتے ہیں‘ امریکا سفارتی کاری کے ذریعے ایران کے ساتھ ایسے معاہدے کے لیے تیار ہے جو ہمارے خدشات کو دور کرسکے تاہم اس کے بارے میں غیر ضروری خوش فہمی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔ ایران امریکا مذاکرات کے بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مطالبات سامنے رکھ دیے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ایران میںیورینیم افزودگی کی صلاحیت ختم کی جائے، یورینیم کی افزودگی کے آلات اور بنیادی ڈھانچے کا خاتمہ ہونا چاہیے، ٹرمپ کو واضح کیا تھا ایران کے جوہری ڈھانچے کا مکمل خاتمہ کیا جائے‘ ایران کے بیلسٹک میزائل کی حد 300 کلو میٹر تک محدود کی جائے، غزہ میں 500 کلو میٹر طویل سرنگوں کو مکمل تباہ نہیں کیا جا سکا۔ ایرانی چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ لڑائی امریکی صدر ٹرمپ کے لیے ناقابل فراموش سبق ہوگا۔ ایک بیان میں میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے غیر محتاط بیانات سربراہ مملکت کے شایان شان نہیں، ٹرمپ جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں تو مذاکرات کی بات کیوں کر رہے ہیں؟۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے میزائل پروگرام پر اسرائیلی حملوں کی حمایت کرنے کا اعلان کر دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام پر اسرائیلی حملوں کی حمایت کریں گے، یہ بات انہوں نے دسمبر میں نیتن یاہو کے ساتھ فلوریڈا میں ایک میٹنگ کے دوران کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر ایران سے ڈیل نہ ہو سکی تو بیلسٹک میزائل پروگرام پر حملوں کی حمایت کریں گے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ سفارتی راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پابندیوں کا خاتمہ ہمارے مفادات سے جڑا ایک ناگزیر معاملہ ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تفصیلات کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ادھر جنیوا میں ہی پیر کے روز عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ گروسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے منگل کو جنیوا میں ہونے والے اہم مذاکرات کی تیاری کے سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ تفصیلی تکنیکی بات چیت مکمل کر لی ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے انکشاف کیا ہے کہ یہ بلاواسطہ مذاکرات جنیوا میں عمانی سفارت خانے کے اندر ہوں گے۔ امریکی جانب سے وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر ان مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا پہنچیں گے۔ اسرائیلی پراسیکیوٹر نے ایک شخص کے خلاف فردِ جرم عاید کی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے ایک ایرانی ایجنٹ کے لیے سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے بارے میں خفیہ معلومات جمع کیں۔ پیر کے روز سامنے آنے والی فردِ جرم کے مطابق ملزم فارس ابو الہیجا کو جنوری کے آخر میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے مذکورہ ایرانی ایجنٹ کی ایما پر ‘امیکام’ میں گیلنٹ کے گھر کے قریب گلیوں کی تصاویر لی تھیں۔”ٹائمز آف اسرائیل” اخبار کے مطابق پولیس اور سکیورٹی ادارے “شاباک” کے مشترکہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کا تعلق الجلیل کے گاؤں ‘کوکب ابو الہیجا سے ہے، جو یوآف گیلنٹ کی رہائش گاہ سے شمال میں تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دھمکیوں کے سامنے سرجھکانا سرے سے ہمارے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکا سے جوہری مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے جینوا پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے جینیوا پہنچنے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے پیغام میں کہا کہ منصفانہ معاہدے کے لیے جنیوا آئے ہیں، دھمکیوں کے آگے سرنہیں جھکائیں گے، منصفانہ اور متوازن معاہدے کے حصول کے لیے حقیقی اقدامات میرے دورہ جینوا کا ایجنڈا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ ایران کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کے کہ ایران کہا کہ نے کہا کے لیے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔