قومی کرکٹ ٹیم کے اسپنر عثمان طارق نے کہا ہےکہ بابر اعظم اور شاہین آفریدی نے بہت میچز بھی جتوائے ہیں اور ایک میچ میں اگر اچھا نہیں ہوا تو یہ کھیل کا حصہ ہے۔کولمبو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عثمان طارق نے کہا کہ مشکل تب ہوتی ہے جب غلطیوں پر کام نہ کریں، ہم نے غلطیوں پر کام کیا ہے دوبارہ غلطیاں نہیں کریں گے تو مشکل نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ میچ کے بعد میٹنگ میں وہی بات ہوتی ہے کہ ہم سے کیا غلطیاں ہوئی ہیں اور میں نے محسوس نہیں کیا کہ ٹیم دباؤ میں ہے، پریشر ہونا نارمل چیز ہے اب پریشر تو ہے نہیں، پریشر پر قابو پانا ہی کام ہوتا ہے اور اس پر کام کیا ہے۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف متاثر کن کارکردگی نہ دکھانے والے بابراعظم اور شاہین آفریدی کے بارے میں عثمان طارق نے کہا کہ انہوں نے بہت میچز بھی جتوائے ہیں، ایک میچ میں اگر اچھا نہیں ہوا تو یہ کھیل کا حصہ ہے اور ویسے بھی ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، آگے آپ دیکھیں گے کہ ہم اچھا کھیلیں گے، پاک بھارت میچ کو پوری قوم دیکھ رہی ہوتی ہے، اپنی بھرپور کوشش کی اور آئندہ اس سے بھی بہتر کرنے کی کوشش ہوگی۔ان کاکہنا تھا کہ اگر میری وجہ سے کوئی ٹیم دباؤ میں آتی ہے تو اس سے اعتماد ملتا ہے، کوئی خاص تیاری کرتا ہے تو اس وجہ سے میں مزید اچھا کرنے کے لیے متحرک ہوتا ہوں۔قومی کرکٹر نے مزید کہاکہ فائنل کھیلنا اور جیتنا ہمارا اولین مقصد ہے، ہمارا مقصد جیت ہے، ہم یہ نہیں دیکھ رہے ہیں حریف ٹیم کون ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پلئینگ الیون پر میرا اختیار نہیں ہوتا، کپتان، کوچ اور سلیکٹرز کوئی فیصلہ کرتے ہیں انہیں بیک کرنا چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں عثمان طارق نے کہا کہ کرکٹ میں دوبارہ واپس آیا اس کی وجہ ایم ایس دھونی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: عثمان طارق نے کہا کھیل کا حصہ ہے نے کہا کہ

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف