WE News:
2026-07-24@00:53:49 GMT

سڑکیں بند کرنا کون سا احتجاج ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

عجب تماشا ہے، 15 ، 20 ، 30 بلوائی نکلتے ہیں اور جب چاہیں سڑکیں ، شاہراہیں اور موٹر ویز بند کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ریاست کہاں ہے؟ یہ لوگوں کےنقل و حرکت کے حق کا تحفظ کر سکتی ہے یا اس ذمہ داری سے بھی دست بردار ہو گئی ہے؟ لوگ اپنی بجلی خود پیدا کر رہے ہیں، تعلیم خود خرید رہے ہیں، اب کیا انہیں اپنے راستے بھی خود ہی کھولنا پڑیں گے؟ کیا ریاست کی طرف سے انکار ہی سمجھا جائے؟

صوابی کے قریب موٹر وے بند، حویلیاں انٹر چینج ایبٹ آباد بند، چشمہ چوک ڈی آئی خان بند، سی پیک روڈ یرک انٹر چینج سے بند، خوش حال گڑھ پل، پنڈی روڈ کوہاٹ بند، ڈی آئی خان سے مین انڈس ہائی وے بند، اکوڑہ خٹک سے خیر آباد پل بند، کوہالہ پل بکوٹ ایبٹ آباد بند۔ کوئی ایمبولینس میں جا رہا ہے، کسی کا کوئی قریبی عزیز مر گیا ہے، کسی کو کوئی ایمر جنسی ہے، لوگ سڑکوں پر ذلیل ہو رہے ہیں۔ سوال وہی ہے: ریاست کہاں ہے؟

ریاست کیا ہے؟ یہ بات بھی سمجھ لیجیے۔ عام حالات میں ریاست اور حکومت میں فرق ہے لیکن جہاں لوگوں کے حقوق کی بات آتی ہے وہاں آئین میں لکھ دیا گیا ہے کہ حکومت ہی کو ریاست سمجھا جائے گا۔ یعنی یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کا کردار ادا کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق فراہم کرے۔ اور حکومت سے مراد صرف وفاقی حکومت نہیں صوبائی حکومت بھی ریاست ہےاور مقامی حکومت بھی ۔

یہ بھی پڑھیں: محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تحریک انصاف معلوم انسانی تاریخ کی واحد حکومت ہے جو اپنی ہی حکومت میں اپنے ہی لوگوں کے راستے بند کر دیتی ہے۔ ویسے تو یہ اتنے دیوانے ہیں کہ عشق عمران میں مرنے کو تیار ہیں لیکن سیانے اس درجے کے ہیں کہ احتجاج وہاں کرتے ہیں جہاں ان کی اپنی حکومت ہے۔ اپنی حکومت میں، اپنی حکومتی مشینری کی چھاؤں میں یہ اپنے ہی شہروں میں اہنے ہی عوام کو ذلیل کرتے ہیں کیونکہ ’ایک تو یہ پڑھے لکھے بہت ہیں دوسرا انہیں مطالعے کی بھی بہت عادت ہے‘۔

ماضی قریب میں پنجاب میں ان کی حکومت تھی۔ اس دن راولپنڈی میں اسکولوں میں چھٹی کا وقت تھا، والدین اپنے بچوں کو اسکولوں سے لے کر واپس جا رہے تھے، عین اس وقت انہوں نے پنجاب بھر کی سڑکیں بند کر دیں۔ صوبائی وزیر قبلہ فیاض چوہان کی قیادت میں مری روڈ بند کر دیا گیا۔ پولیس سڑک کھلوانے کی بجائے وزیر صاحب کو پروٹوکول دے رہی تھی۔ متبادل سڑکوں کی طرف مڑے تو وہ بھی بند۔ راوپلنڈی سے اسلام آباد یہ نصف گھنٹے کا سفر اس روز میں نے بچوں کے ساتھ 10 گھنٹے میں طے کیا اور میں یہی سوچتا رہا کہ ریاست کہاں ہے؟ یہ صرف میرا حال نہیں تھا، سینکڑوں فیملیز کتنے ہی گھنٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ سڑکوں پر ذلیل ہوتی رہیں۔ کیا کسی کو احساس ہے کہ والدین اور بچوں کے لیے یہ کتنا اذیت ناک اور تلخ تجربہ ہو سکتا ہے؟

 اور تصور کیجیے، ان پر کیا قیامت گزرتی ہو گی جن کے پیارے ایمبولینس میں زندگی اور موت کی کشمکش میں پڑے ہوں اور وہ انہیں اسپتال نہ  لے جا سکیں کہ راستے میں جا بجا انقلاب رفع حاجت کر رہا ہو ۔ کوئی دکھ سا دکھ ہے۔

اتنا بڑا انسانی المیہ ہے لیکن کسی کو پرواہ نہیں۔ وزیر اعلیٰ کے پی کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ  اپنے صوبے میں سڑکوں کو بند نہ ہونے دیں لیکن وہ تو عشق عمران کے قتیل ہیں، ان کی جانے بلا کہ لوگوں پر کیا گزر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت اگر عملاً بلوائیوں کی سہولت کاری کر رہی ہے تو وفاقی حکومت کہاں ہے؟ عام آدمی کہاں جائے؟ کس کے پاس اپنا مسئلہ لے کر جائے؟ کوئی ا س کی فریاد سننے کو موجود ہے؟

مزید پڑھیے: مولانا، افغانستان اور پاکستان

کیا دنیا کے کسی ملک میں، یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ بلوائی جب چاہیں نکلیں، اور مرکزی شاہراہیں بند کر دیں؟ کیا کوئی کمزور سے کمزور ریاست بھی یہ حرکت گوارا کرے گی؟ کجا یہ کہ اسے رسم ہی بنا لیا جائے۔

تحریک انصاف کے مطالبات درست بھی ہو سکتے ہیں اور پوسٹ ٹروتھ کی روایتی ہنر کاری کا مبالغہ بھی قرار دیے جا سکتے ہیں لیکن دونوں صورتوں میں، مطالبات منوانے کا یہ کون سا طریقہ ہے کہ خلق خدا کے لیے زندگی عذاب بنا دی جائے۔

عمران خان صاحب کو طبی سہولیات ملنی چاہییں، یہ ان کا حق ہے لیکن جو ایمبولینسوں میں اپنے پیاروں کی زندگی بچانے اسپتالوں کو بھاگے جا رہے ہوتے ہوتے ہیں کیا ان کا کوئی حق نہیں ہے؟

مزید پڑھیں: اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا؟

صوبائی ہو یا وفاقی، ہر 2 حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ازراہ کرم ایک بار وضاحت فرما دیں کہ وہ لوگوں کے نقل و حرکت کے حق کا تحفظ کر سکتے ہیں یا جیسے لوگ تعلیم خرید رہے ہیں، انصاف خرید رہے ہیں، بجلی اپنے سولرز سے لے رہے ہیں، پانی کے لیے اپنے اپنے بور کر رکھے ہیں ویسے ہی وہ اپنے لیے سڑکیں بھی خود ہی جا کر کھلوا لیا کریں۔ حکومتوں کے آرام میں خلل نہ ڈالا کریں۔ حکومتیں سڑکیں کھلوانے کے لیے تھوڑی بنتی ہیں، وہ تو شعور دینے کے لیے بنتی ہیں اور سڑکیں بند نہیں ہوں گی، لوگ ذلیل نہیں ہوں گے، نظام زندگی درہم برہم نہیں ہو گا، معیشت کا ستیاناس نہیں ہو گا تو شعور کیسے آئے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

احتجاج ایمرجنسی مریض خیبرپختونخوا روڈ بلاک ریاست کا فرض سڑکیں بند صوابی موٹروے.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایمرجنسی مریض خیبرپختونخوا روڈ بلاک ریاست کا فرض سڑکیں بند صوابی موٹروے سڑکیں بند لوگوں کے رہے ہیں ہیں اور نہیں ہو کہاں ہے کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن