وفاقی آئینی عدالت میں بھی خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی بندش کے خلاف درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی بندش کے خلاف شہری خواجہ اظہر رشید نے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے مختلف شاہراہوں کی بندش کے باعث صوبے بھر میں ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق سڑکوں کی بندش سے مسافروں کو سفر میں دشواری، مریضوں کو اسپتالوں تک رسائی میں رکاوٹ، طلبہ کو تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں مشکلات، یومیہ اجرت کمانے والوں کو روزگار میں نقصان اور عوام کو عدالتوں تک رسائی میں رکاوٹ جیسے مسائل درپیش ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال سے عام شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
رمضان میں اشیائے ضروریہ کی قلت کا خدشہدرخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ اگر رمضان المبارک کے دوران بھی سڑکیں بند رہیں تو صوبے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بین الصوبائی آمدورفت متاثردرخواست میں کہا گیا ہے کہ سڑکوں کی بندش سے نہ صرف صوبے کے اندر نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے بلکہ بین الصوبائی آمدورفت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے، جو شہریوں کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔
آئینی نکات اور استدعادرخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ آئین 1973 کے تحت شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے احکامات جاری کیے جائیں۔ عدالت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے بھر میں فوری طور پر سڑکوں کی بندش ختم کرائی جائے۔ سڑکوں کی بندش کے عمل کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔
کن کو فریق بنایا گیا؟درخواست میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا کو فریق بنایا گیا ہے۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری مداخلت کی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سڑکوں کی بندش درخواست میں کی بندش کے گیا ہے کہ متاثر ہو
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔