خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی بندش کے خلاف شہری خواجہ اظہر رشید نے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے مختلف شاہراہوں کی بندش کے باعث صوبے بھر میں ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق سڑکوں کی بندش سے مسافروں کو سفر میں دشواری، مریضوں کو اسپتالوں تک رسائی میں رکاوٹ، طلبہ کو تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں مشکلات، یومیہ اجرت کمانے والوں کو روزگار میں نقصان اور عوام کو عدالتوں تک رسائی میں رکاوٹ جیسے مسائل درپیش ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال سے عام شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

رمضان میں اشیائے ضروریہ کی قلت کا خدشہ

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ اگر رمضان المبارک کے دوران بھی سڑکیں بند رہیں تو صوبے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بین الصوبائی آمدورفت متاثر

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سڑکوں کی بندش سے نہ صرف صوبے کے اندر نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے بلکہ بین الصوبائی آمدورفت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے، جو شہریوں کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔

آئینی نکات اور استدعا

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ آئین 1973 کے تحت شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے احکامات جاری کیے جائیں۔ عدالت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے بھر میں فوری طور پر سڑکوں کی بندش ختم کرائی جائے۔ سڑکوں کی بندش کے عمل کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔

کن کو فریق بنایا گیا؟

درخواست میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا کو فریق بنایا گیا ہے۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری مداخلت کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا سڑکوں کی بندش درخواست میں کی بندش کے گیا ہے کہ متاثر ہو

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا