Juraat:
2026-07-24@00:14:29 GMT

موضوع کی تلاش

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

موضوع کی تلاش

بے لگام / ستار چوہدری

کبھی کبھی خالی کاغذ سب سے بھاری چیز بن جاتا ہے ۔ لفظ ہوتے ہیں درد بھی ہوتا ہے لیکن عنوان نہیں ہوتا۔۔۔۔ اورعنوان کے بغیر قلم یوں رک جاتا ہے جیسے کسی قبر پر کھڑا ہو اور نام یاد نہ آ رہا ہو۔ میں سوچتا ہوں کیا میں آج کسی مظلوم پر لکھوں یا خود اپنے اس الجھے ہوئے ذہن پر۔۔۔؟ یہ شہر درحقیقت ایک کتاب ہے جس کے ہرصفحے پر کسی کا زخم لکھا ہے ۔ ایک صفحے پر عدالت میں کھڑا بوڑھا، دوسرے پرفیکٹری سے نکالا گیا مزدور، تیسرے پرتعلیمی اسناد لیے بے روزگار نوجوان۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کہانیاں نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ چیخیں اتنی زیادہ ہیں کہ میں کسی ایک کو سن نہیں پا رہا۔ کیا میں اس نوجوان پر لکھوں جس نے اپنی زندگی پنکھے کے ساتھ باندھ دی۔۔۔؟ جس نے خواب دیکھے تھے مگر تنخواہ نہیں ملی، عزت مانگی تھی مگر دھتکار ملی، امید چاہی تھی مگر خاموشی ملی، وہ مرا نہیں تھا وہ تھک گیا تھا۔ مگر اخبار نے لکھا ”ایک اور خودکشی” ۔۔۔ بس ۔۔ اتنا ہی۔۔۔ یا میں اس ماں پرلکھوں جو روز دروازہ کھولتی ہے بغیرکسی دستک کے ۔۔۔؟ جس کے لیے وقت رک گیا ہے اور دعائیں چل رہی ہیں۔ وہ بیٹے کے لوٹنے کا نہیں بس خبر آنے کا انتظار کرتی ہے ۔ کیونکہ اس ملک میں واپسی کم اور لاشیں زیادہ آتی ہیں۔۔۔۔ یا میں اس باپ پر لکھوں جو بچوں کے سامنے کمزور نہیں پڑتا۔۔۔؟ جو ہررات اپنے بٹوے کو دیکھ کر اپنی مردانگی تولتا ہے اورپھر چپ چاپ سو جاتا ہے کیونکہ آنسوؤں کا بھی کوئی بجٹ نہیں ہوتا۔ اس کی خاموشی کسی تقریر سے زیادہ چیختی ہے ۔
پھرمیں سمجھتا ہوں کہ شاید اصل موضوع یہ سب نہیں اصل موضوع یہ ہے کہ اتنے درد کے باوجود ہم اب بھی پوچھتے ہیں کس پر لکھوں ۔۔ ۔؟ جبکہ یہاں تو ہردروازہ ایک نیا زخم ہے میں ایک ایک در کھولتا ہوں اور ہر کمرے میں ایک الگ چیخ میرا انتظار کر رہی ہوتی ہے ۔تعلیم پر لکھوں، اس دروازے کے پیچھے بچوں کی آنکھوں میں خواب ہیں مگر تعلیمی اداروں میں کرسیوں سے زیادہ مایوسی رکھی ہے ۔ کتابیں کہتی ہیں ”تم کچھ بن سکتے ہو”۔۔۔اور نظام کہتا ہے ”تم کچھ نہیں ہو”۔۔۔ہسپتالوں پرلکھوں ، اگلے دروازے پر سانسیں بکتی ہیں اور بستر کم پڑ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر تھکا ہوا ہے مریض مجبور اور غریب نسخے کو دیکھ کر زندگی کا حساب لگاتا ہے ۔ یہ علاج نہیں یہ انتخاب ہے کہ کون جیے اور کون فہرست میں رہ جائے ۔۔۔۔مہنگائی پر لکھوں، یہ زخم روز گہرا ہوتا ہے ۔ روٹی چھوٹی ہو رہی ہے ، بل بڑھ رہا ہے اور تنخواہ شرم سے جھک گئی ہے ۔ میں دیکھتا ہوں ایک مزدور پانچ روٹیاں خرید کر چھ بچوں کو دیکھتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے آج کون بھوکا سوئے گا۔۔۔؟ مذہب پر لکھوں، یہ وہ دروازہ ہے جہاں داخل ہوتے ہی انسان خاموش اور لیبل بولنے لگتے ہیں۔ یہاں ایمان تولا جاتا ہے اور رحم ناپا جاتا ہے ۔ خدا دلوں سے نکل کر نعروں میں قید ہو گیا ہے اور ہم اس کے نام پر اپنی نفرتوں کو مقدس بنا رہے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں عبادت کم اور فیصلے زیادہ ہوتے ہیں کہ کون جنتی ہے ،کون جہنمی۔۔اور میں سوچتا ہوں اگر خدا خود آ جائے تو کیا ہم اسے بھی کسی فرقے میں بانٹ دیں گے ۔۔۔؟ سیاست پر لکھوں، یہ دروازہ سب سے شور والا ہے مگر اندر سب سے زیادہ خاموشی ہے ۔یہاں ووٹ گنا جاتا ہے مگر آدمی نہیں۔ وعدے بڑے ہیں اور قبریں ان سے بھی بڑی۔۔۔میڈیا پر لکھوں، اور آخر میں میرا اپنا دروازہ جہاں سچ آتا ہے اور ریٹنگ میں بدل جاتا ہے ۔ جہاں خون بریکنگ نیوز بنتا ہے اور درد اشتہاروں کے بیچ دب جاتا ہے ۔ میں اسی کمرے میں کھڑا ہوں اور سوچ رہا ہوں کیا میں خبر لکھ رہا ہوں یا کسی کی زندگی مٹا رہا ہوں۔۔۔؟۔۔۔ اور یوں ہر دروازہ بند کرنے کے بعد میرا سوال اور بھاری ہو جاتا ہے اس ملک میں آخر کس پرلکھوں۔۔۔؟شاید ہم اتنے ٹوٹ چکے ہیں کہ دکھ بھی ہمیں الجھا دیتا ہے ۔۔۔اور یہی الجھن میرا کالم ہے ۔۔۔
اس ملک میں شور بہت ہے مگر آواز نہیں۔ ٹی وی چیختا ہے لیڈر بولتے ہیں مگر بھوک خاموش ہے ، بے روزگاری گونگی ہے اور خودکشی سرکاری فائلوں میں صرف ایک نمبر ہے ۔ میں لکھنا چاہتا ہوں مگر ڈرتا ہوں کہ میری تحریر بھی کسی فائل میں بند نہ ہو جائے ۔قلم بھی کبھی کبھی وزن بن جاتا ہے ۔ جب سچ لکھنے لگو تو انگلیاں کانپتی ہیں اور جب جھوٹ لکھو تو روح۔ میں سوچتا ہوں کیا میں سچ لکھ رہا ہوں یا صرف دکھ کو خوبصورت بنا رہا ہوں۔۔۔؟ یہ سوال ہر لکھنے والے کا اصل امتحان ہے ۔ میں قاری کو دیکھتا ہوں جو یہ سب پڑھ کر سر ہلاتا ہے اور پھر چائے کا کپ اٹھا لیتا ہے ۔ درد پڑھا جاتا ہے ، پی لیا جاتا ہے ، بھلا دیا جاتا ہے ۔ شاید ہم سب ایک دوسرے کے دکھ صرف اس لیے پڑھتے ہیں کہ اپنے دکھ کچھ دیر کو بھول جائیں۔ریاست کہتی ہے ”سب ٹھیک ہے ” ۔۔۔اور شہری زندہ رہنے کی کوشش میں مر رہا ہوتا ہے ان دونوں کے بیچ ایک خلیج ہے جس میں انصاف ڈوب چکا ہے اور امید تیر رہی ہے ۔ میں اسی خلیج پر لکھ رہا ہوں مگر نام ابھی تک نہیں ملا۔۔۔اب مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ یہ کالم کبھی مکمل نہیں ہوگا۔ کیونکہ جس معاشرے میں درد روز پیدا ہوتا ہو وہاں موضوع کبھی ختم نہیں ہوتے ۔۔۔ اور شاید میری زندگی کا سب سے سچا کالم یہی ہے ۔۔ ” موضوع کی تلاش ” ۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: جاتا ہے کیا میں نہیں ہو رہا ہوں رہا ہو ہیں کہ ہے اور

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف