بے لگام / ستار چوہدری
کبھی کبھی خالی کاغذ سب سے بھاری چیز بن جاتا ہے ۔ لفظ ہوتے ہیں درد بھی ہوتا ہے لیکن عنوان نہیں ہوتا۔۔۔۔ اورعنوان کے بغیر قلم یوں رک جاتا ہے جیسے کسی قبر پر کھڑا ہو اور نام یاد نہ آ رہا ہو۔ میں سوچتا ہوں کیا میں آج کسی مظلوم پر لکھوں یا خود اپنے اس الجھے ہوئے ذہن پر۔۔۔؟ یہ شہر درحقیقت ایک کتاب ہے جس کے ہرصفحے پر کسی کا زخم لکھا ہے ۔ ایک صفحے پر عدالت میں کھڑا بوڑھا، دوسرے پرفیکٹری سے نکالا گیا مزدور، تیسرے پرتعلیمی اسناد لیے بے روزگار نوجوان۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کہانیاں نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ چیخیں اتنی زیادہ ہیں کہ میں کسی ایک کو سن نہیں پا رہا۔ کیا میں اس نوجوان پر لکھوں جس نے اپنی زندگی پنکھے کے ساتھ باندھ دی۔۔۔؟ جس نے خواب دیکھے تھے مگر تنخواہ نہیں ملی، عزت مانگی تھی مگر دھتکار ملی، امید چاہی تھی مگر خاموشی ملی، وہ مرا نہیں تھا وہ تھک گیا تھا۔ مگر اخبار نے لکھا ”ایک اور خودکشی” ۔۔۔ بس ۔۔ اتنا ہی۔۔۔ یا میں اس ماں پرلکھوں جو روز دروازہ کھولتی ہے بغیرکسی دستک کے ۔۔۔؟ جس کے لیے وقت رک گیا ہے اور دعائیں چل رہی ہیں۔ وہ بیٹے کے لوٹنے کا نہیں بس خبر آنے کا انتظار کرتی ہے ۔ کیونکہ اس ملک میں واپسی کم اور لاشیں زیادہ آتی ہیں۔۔۔۔ یا میں اس باپ پر لکھوں جو بچوں کے سامنے کمزور نہیں پڑتا۔۔۔؟ جو ہررات اپنے بٹوے کو دیکھ کر اپنی مردانگی تولتا ہے اورپھر چپ چاپ سو جاتا ہے کیونکہ آنسوؤں کا بھی کوئی بجٹ نہیں ہوتا۔ اس کی خاموشی کسی تقریر سے زیادہ چیختی ہے ۔
پھرمیں سمجھتا ہوں کہ شاید اصل موضوع یہ سب نہیں اصل موضوع یہ ہے کہ اتنے درد کے باوجود ہم اب بھی پوچھتے ہیں کس پر لکھوں ۔۔ ۔؟ جبکہ یہاں تو ہردروازہ ایک نیا زخم ہے میں ایک ایک در کھولتا ہوں اور ہر کمرے میں ایک الگ چیخ میرا انتظار کر رہی ہوتی ہے ۔تعلیم پر لکھوں، اس دروازے کے پیچھے بچوں کی آنکھوں میں خواب ہیں مگر تعلیمی اداروں میں کرسیوں سے زیادہ مایوسی رکھی ہے ۔ کتابیں کہتی ہیں ”تم کچھ بن سکتے ہو”۔۔۔اور نظام کہتا ہے ”تم کچھ نہیں ہو”۔۔۔ہسپتالوں پرلکھوں ، اگلے دروازے پر سانسیں بکتی ہیں اور بستر کم پڑ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر تھکا ہوا ہے مریض مجبور اور غریب نسخے کو دیکھ کر زندگی کا حساب لگاتا ہے ۔ یہ علاج نہیں یہ انتخاب ہے کہ کون جیے اور کون فہرست میں رہ جائے ۔۔۔۔مہنگائی پر لکھوں، یہ زخم روز گہرا ہوتا ہے ۔ روٹی چھوٹی ہو رہی ہے ، بل بڑھ رہا ہے اور تنخواہ شرم سے جھک گئی ہے ۔ میں دیکھتا ہوں ایک مزدور پانچ روٹیاں خرید کر چھ بچوں کو دیکھتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے آج کون بھوکا سوئے گا۔۔۔؟ مذہب پر لکھوں، یہ وہ دروازہ ہے جہاں داخل ہوتے ہی انسان خاموش اور لیبل بولنے لگتے ہیں۔ یہاں ایمان تولا جاتا ہے اور رحم ناپا جاتا ہے ۔ خدا دلوں سے نکل کر نعروں میں قید ہو گیا ہے اور ہم اس کے نام پر اپنی نفرتوں کو مقدس بنا رہے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں عبادت کم اور فیصلے زیادہ ہوتے ہیں کہ کون جنتی ہے ،کون جہنمی۔۔اور میں سوچتا ہوں اگر خدا خود آ جائے تو کیا ہم اسے بھی کسی فرقے میں بانٹ دیں گے ۔۔۔؟ سیاست پر لکھوں، یہ دروازہ سب سے شور والا ہے مگر اندر سب سے زیادہ خاموشی ہے ۔یہاں ووٹ گنا جاتا ہے مگر آدمی نہیں۔ وعدے بڑے ہیں اور قبریں ان سے بھی بڑی۔۔۔میڈیا پر لکھوں، اور آخر میں میرا اپنا دروازہ جہاں سچ آتا ہے اور ریٹنگ میں بدل جاتا ہے ۔ جہاں خون بریکنگ نیوز بنتا ہے اور درد اشتہاروں کے بیچ دب جاتا ہے ۔ میں اسی کمرے میں کھڑا ہوں اور سوچ رہا ہوں کیا میں خبر لکھ رہا ہوں یا کسی کی زندگی مٹا رہا ہوں۔۔۔؟۔۔۔ اور یوں ہر دروازہ بند کرنے کے بعد میرا سوال اور بھاری ہو جاتا ہے اس ملک میں آخر کس پرلکھوں۔۔۔؟شاید ہم اتنے ٹوٹ چکے ہیں کہ دکھ بھی ہمیں الجھا دیتا ہے ۔۔۔اور یہی الجھن میرا کالم ہے ۔۔۔
اس ملک میں شور بہت ہے مگر آواز نہیں۔ ٹی وی چیختا ہے لیڈر بولتے ہیں مگر بھوک خاموش ہے ، بے روزگاری گونگی ہے اور خودکشی سرکاری فائلوں میں صرف ایک نمبر ہے ۔ میں لکھنا چاہتا ہوں مگر ڈرتا ہوں کہ میری تحریر بھی کسی فائل میں بند نہ ہو جائے ۔قلم بھی کبھی کبھی وزن بن جاتا ہے ۔ جب سچ لکھنے لگو تو انگلیاں کانپتی ہیں اور جب جھوٹ لکھو تو روح۔ میں سوچتا ہوں کیا میں سچ لکھ رہا ہوں یا صرف دکھ کو خوبصورت بنا رہا ہوں۔۔۔؟ یہ سوال ہر لکھنے والے کا اصل امتحان ہے ۔ میں قاری کو دیکھتا ہوں جو یہ سب پڑھ کر سر ہلاتا ہے اور پھر چائے کا کپ اٹھا لیتا ہے ۔ درد پڑھا جاتا ہے ، پی لیا جاتا ہے ، بھلا دیا جاتا ہے ۔ شاید ہم سب ایک دوسرے کے دکھ صرف اس لیے پڑھتے ہیں کہ اپنے دکھ کچھ دیر کو بھول جائیں۔ریاست کہتی ہے ”سب ٹھیک ہے ” ۔۔۔اور شہری زندہ رہنے کی کوشش میں مر رہا ہوتا ہے ان دونوں کے بیچ ایک خلیج ہے جس میں انصاف ڈوب چکا ہے اور امید تیر رہی ہے ۔ میں اسی خلیج پر لکھ رہا ہوں مگر نام ابھی تک نہیں ملا۔۔۔اب مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ یہ کالم کبھی مکمل نہیں ہوگا۔ کیونکہ جس معاشرے میں درد روز پیدا ہوتا ہو وہاں موضوع کبھی ختم نہیں ہوتے ۔۔۔ اور شاید میری زندگی کا سب سے سچا کالم یہی ہے ۔۔ ” موضوع کی تلاش ” ۔۔۔۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: جاتا ہے کیا میں نہیں ہو رہا ہوں رہا ہو ہیں کہ ہے اور
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔