ایران کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے حصول کے منصوبے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ایرانی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریہ نے تسنیم نیوز کو ایک انٹرویو میں سیٹلائٹ نیٹ ورک اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات (اسٹارلنک جیسی سروس) کی فراہمی کے سلسلے میں ایران کی صلاحیت اور منصوبوں پر روشنی ڈالی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انٹرنیٹ سیٹلائٹ سسٹم (براڈ بینڈ) تک رسائی کے طریقہ کے بارے میں ایران کے وژن کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایرانی خلائی ایجنسی کے سربراہ حسن سالاریہ نے تسنیم نیوز کو ایک انٹرویو میں سیٹلائٹ نیٹ ورک اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات (اسٹارلنک جیسی سروس) کی فراہمی کے سلسلے میں ایران کی صلاحیت اور منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کم زمینی مدار (LEO) میں براڈ بینڈ خدمات فراہم کرنے کے لیے سیٹلائٹ نیٹ ورک بنانے کو بہت بڑی تعداد میں سیٹلائٹس درکار ہوتی ہیں۔ مداری بلندی اور ڈیزائن کی نوعیت کے مطابق بعض اوقات مکمل کوریج کے لیے ہزاروں سیٹلائٹس کو مدار میں بھیجنا پڑتا ہے۔ کم مدار سیٹلائٹ نیٹ ورک کے بارے میں ایک اہم نکتہ ان کی مارکیٹ اور خدمات کا پہلو ہے، کیونکہ کم بلندی والے سیٹلائٹس کے زمینی نشانات مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ایک سیٹلائٹ کسی ایک خطے کو مستقل طور پر کور نہیں کرتا۔ اس کے برعکس زمین ہم آہنگ مدار ( تقریباً 36 ہزار کلومیٹر) کے سیٹلائٹس زمین کے مقابلے میں نسبتاً مستقل پوزیشن رکھتے ہیں، جبکہ LEO سیٹلائٹس مسلسل حرکت میں ہوتے ہیں اور ایک ہی علاقے پر مستقل کوریج نہیں دیتے۔
مارکیٹ کا چیلنج اور عالمی کوریج کی ضرورت
سالاریہ نے ان منصوبوں کے اقتصادی پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سیٹلائٹس کی مداری گردش کی نوعیت کے باعث ضروری ہے کہ ان کی خدمات کے لیے وسیع بین الاقوامی مارکیٹ موجود ہو۔ ایسے منصوبوں کی کامیابی کی کنجی “مارکیٹ” اور عالمی سطح پر ہدف صارفین کو خدمات کی فراہمی ہے، کیونکہ عملی طور پر ان منظوموں کو دنیا کے بڑے حصے کو کور کرنا پڑتا ہے تاکہ یہ معاشی طور پر قابلِ عمل بن سکیں۔ دنیا میں اس شعبے میں کام کرنے والی کمپنیاں، جیسے SpaceX اور اس کا Starlink منصوبہ، بھی صارفین کے حصول کے اہم چیلنج سے دوچار رہی ہیں۔ انہوں نے کئی برسوں تک سیٹلائٹس کی تیاری اور لانچنگ پر کام کیا، پھر بتدریج مناسب صارفین حاصل ہوئے۔ ابتدائی مراحل میں سرکاری اداروں کی حمایت ایسے منصوبوں کی تشکیل کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
ایران کی حکمتِ عملی: بین الاقوامی شراکت اور سرمایہ کاری
انہوں نے اس شعبے میں ایران کی حکمتِ عملی بیان کرتے ہوئے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت ہماری ترجیح اور منصوبہ یہ ہے کہ ان منصوبوں کو تیار کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون اور شراکت داری کی جائے۔ ہماری توجہ اُن ممالک اور کمپنیوں کے ساتھ تعاون پر ہے جو ایران کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور شراکت پر آمادہ ہیں۔ یہ شراکت دو شکلوں میں متعین کی گئی ہے: “مشترکہ سرمایہ کاری” اور “فنی تعاون”، اور اس سلسلے میں عملی اقدامات جاری ہیں۔ آخر میں انہوں نے نجی شعبے کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کا نجی شعبہ اس میدان میں داخل ہو، کیونکہ ان منصوبوں کی بقا براہِ راست موزوں مارکیٹ سے وابستہ ہے، اور نجی شعبہ قدرتی طور پر مارکیٹنگ اور بین الاقوامی شراکت داری قائم کرنے میں زیادہ تیز اور مؤثر ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیٹلائٹ نیٹ ورک بین الاقوامی براڈ بینڈ میں ایران انہوں نے ایران کی کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔