امریکا نے ایران کے ساتھ منگل کو جنیوا میں متوقع اہم مذاکرات سے قبل مشرق وسطیٰ میں فضائی اور بحری وسائل کی بڑی تعیناتی شروع کر دی ہے۔

سی این این کے مطابق اس اقدام کا مقصد تہران کو دباؤ میں رکھنا اور اگر ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوری ضرب لگانے کے متبادل تیار رکھنا ہے، مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: صدر ٹرمپ کا امریکا اور ایران کے جوہری مذاکرات میں بالواسطہ شرکت کا اعلان

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں موجود امریکی فضائیہ کے وسائل، بشمول ریفولنگ ٹینکر اور فائٹر جیٹس، مشرق وسطیٰ کے قریب منتقل کیے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، امریکا خطے میں فضائی دفاعی نظام بھی فراہم کر رہا ہے اور بعض فوجی یونٹس کے قیام کے احکامات بڑھا دیے گئے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں درجنوں امریکی کارگو پروازوں کے ذریعے سامان اردن، بحرین اور سعودی عرب پہنچایا گیا۔

مذاکرات میں امریکا کی جانب سے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر جبکہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کو یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ایرانی حکومت کو ہٹا دیا گیا تو کون اقتدار سنبھالے گا۔ ممکنہ طور پر اسلامی انقلابی گارڈز کسی بھی قیادت کے خلا کو پر کر سکتے ہیں، لیکن صورتحال غیر یقینی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جوہری مذاکرات کا دوسرا دور جینیوا میں، ایران نے لچک کا اشارہ دے دیا

سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے خطے میں بحری اور فضائی طاقتیں تعینات کر دی ہیں، جس میں 2 طیارہ بردار بحری بیڑے، ایف-15 اور ایف-35 جیٹس شامل ہیں، تاکہ اگر حملے کی ضرورت پڑی تو وسیع پیمانے پر کارروائی ممکن ہو، ممکنہ اہداف میں اسلامی انقلابی گارڈز کے ہیڈکوارٹر اور دیگر فوجی تنصیبات شامل ہیں۔

ایرانی فوج نے بھی جنیوا مذاکرات سے پہلے مشقیں بڑھا دی ہیں۔ انقلابی گارڈز نے 3 ایرانی جزیروں کے دفاع کا اعلان کیا، جو متحدہ عرب امارات کے ساتھ طویل سرحدی تنازع کا حصہ ہیں۔ ایرانی چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے امریکی حملے کی صورت میں سخت نتائج کی وارننگ دی ہے۔

خطے کے عرب اتحادی اور اسرائیل بھی امریکی کارروائی پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، جبکہ ایران مذاکرات کے باوجود اپنی فوجی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران حملہ فوج.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران حملہ فوج

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان