تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، ایران سے مذاکرات میں بالواسطہ شامل رہوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ائیرفورس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران ماضی میں مذاکرات کے دوران سخت مؤقف اختیار کرتا رہا ہے، تاہم گزشتہ سال امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد تہران کو اپنے مؤقف کے نتائج کا اندازہ ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل ہوں گے۔ ائیرفورس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ مذاکرات انتہائی اہم ہوں گے اور وہ ان میں براہ راست نہیں بلکہ بالواسطہ کردار ادا کریں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران ماضی میں مذاکرات کے دوران سخت مؤقف اختیار کرتا رہا ہے، تاہم گزشتہ سال امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد تہران کو اپنے مؤقف کے نتائج کا اندازہ ہوا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس بار ایران مذاکرات کیلئے سنجیدہ دکھائی دیتا ہے اور ممکنہ طور پر کسی معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان جھگڑے میں ملوث نہیں، تاہم وہ اسے حل کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اہم مذاکرات جنیوا میں متوقع ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
تہران(نیوز ڈیسک) ایران اور عراق نے دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے چار معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کردیے۔
عراقی وزیراعظم کے دورہ تہران کے موقع پر معاہدوں پر دستخط کیے گئے، یہ معاہدے خسروی خانقین بغداد ریلوے کی تعمیر، بغداد اورتہران کو سسٹر سٹیز بنانے، پبلک ایڈمنسٹریشن میں تعاون، تربیت اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ سے متعلق کیے گئے۔
معاہدے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم علی الزیدی کی موجودگی میں کیے گئے۔
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ عراق سمیت پڑوسی ممالک سے تعلقات کو مضبوط بنانا ترجیح ہے۔
مزید پڑھیں۔’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی