امریکی طیارہ بردار بیڑہ ایرانی ساحل کے قریب پہنچ گیا، خطے میں خطرے کی گھنٹی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صلاحیت کسی بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کو مؤثر طریقے سے ناکام بنانے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی اور جنگی سازوسامان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان جاری تناؤ کے تناظر میں اہم ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ USS Abraham Lincoln اب ایرانی ساحل کے مزید قریب پہنچ چکا ہے۔
مزید پڑھیںایران کیساتھ معاہدے کا ہوجانا اب بہت مشکل ہوگیا، امریکی وزیر خارجہ نے وجہ بتادی
’ایران سنگین نتائج سے بچنے کیلیے معاہدہ چاہتا ہے‘ ٹرمپ کا جوہری مذاکرات میں بالواسطہ شامل ہونے کا اعلان
امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے، خبرایجنسی
پہلے یہ بیڑہ ایران سے تقریباً 700 کلو میٹر کی دوری پر تھا، تاہم اب یہ فاصلہ کم ہو کر تقریباً 240 کلو میٹر رہ گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی بحری اور فضائی طاقت میں اس اضافے کا مقصد خطے میں عسکری برتری کو مستحکم بنانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی صلاحیت کو یقینی بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور سفارتی کوششوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔