12 سالہ امریکی طالبعلم نے نیوکلیئر فیوژن انجام دے کر سب کو حیران کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس سے تعلق رکھنے والے 12 سالہ طالبعلم نے نیوکلیئر فیوژن کا کامیاب تجربہ انجام دے کر سائنسی حلقوں میں حیرت کی لہر دوڑا دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اتنی کم عمری میں اس پیچیدہ عمل کو ممکن بنا کر اس بچے نے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ گنیز ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کرانے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔
طالبعلم ایڈن مک ملن کے مطابق اس منصوبے کی بنیاد انہوں نے 8 برس کی عمر میں رکھ دی تھی۔ انہوں نے پہلے مرحلے میں نیوکلیئر فزکس کا مطالعہ کیا اور 2 سال تک بنیادی نظریات کو سمجھنے میں وقت صرف کیا۔ اس کے بعد مختلف پروٹو ٹائپس تیار کیے گئے تاکہ عملی طور پر اس پیچیدہ عمل کو ممکن بنایا جا سکے۔
ایڈن کا کہنا ہے کہ اس سفر میں انہیں اپنی والدہ کو مطمئن کرنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ ان کی والدہ ہر مرحلے پر حفاظتی پہلوؤں سے متعلق سوالات اٹھاتی تھیں اور یہ یقین دہانی چاہتی تھیں کہ کسی قسم کا خطرہ موجود نہیں۔ مسلسل محنت اور احتیاط کے بعد بالآخر نیوکلیئر فیوژن کا عمل کامیابی سے مکمل ہوا۔
اب ایڈن اپنے تجربے کے شواہد گنیز ورلڈ ریکارڈز میں جمع کرانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس وقت کم عمر ترین شخص کے طور پر یہ اعزاز جیکسن اوسوالٹ کے پاس ہے، تاہم اگر ایڈن کی درخواست منظور ہو گئی تو وہ یہ ریکارڈ اپنے نام کر سکتے ہیں۔
کم عمری میں سائنسی تحقیق کی یہ مثال نوجوان نسل کے لیے ایک نئی تحریک بن کر سامنے آئی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس کارنامے کو غیر معمولی پذیرائی مل رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔