کراچی میں بلڈنگ کنٹرول کی نئی ہدایات، فائر سیفٹی لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 میں ترامیم کر کے فائر سیفٹی کے اقدامات کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
اب نئی ترامیم کے تحت پبلک سیل اور صنعتی عمارتوں میں فائر فائٹنگ کے لیے مخصوص زیر زمین اور اوور ہیڈ واٹر ٹینک لازمی ہوں گے، جبکہ تصدیق شدہ مکینیکل، الیکٹریکل اور پلمبنگ ڈرائنگز جمع کروانا بھی لازمی ہے۔
کمپلیشن پلان کی منظوری کے لیے سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ اور بلدیاتی اداروں کی این او سی لازمی ہوگی۔ ہر دکان میں کم از کم ایک فائر ایکسٹنگوئشر نصب کرنا لازم ہے، جبکہ ڈپارٹمنٹل اسٹورز کے لیے ہر 400 مربع فٹ پر ایک فائر ایکسٹنگوئشر ضروری قرار دی گئی ہے۔
مزید برآں، کمرشل علاقوں میں عمارت کی مجموعی پارکنگ کے ساتھ موٹر سائیکل وزیٹر پارکنگ فراہم کرنا لازمی ہوگا تاکہ فائر سیفٹی اور پارکنگ کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔