وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے مابین تعاون کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی گئی۔

ویانا میں اقوام متحدہ کے تحت منعقدہ "پائیدار ترقی، عالمی امن و خوشحالی کا راستہ" کے عنوان سے خصوصی تقریب  جاری ہے۔

تقریب میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطاب کیا اور  وزیرِ اعظم شہباز شریف خطاب کر رہے ہیں۔

معاہدوں میں یونیڈو (UNIDO) پروگرام برائے کنٹری پارٹنرشپ پاکستان 2025 تا 2030،  یواین او ڈی سی (UNODC) کنٹری پروگرام پاکستان،  اور انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئیر میڈیسن اینڈ آنکالوجی لاہور (INMOL) اور IAEA کے مابین تعاون کے معاہدہ شامل ہیں۔

وزیراعظم  شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو آج جغرافیائی کشیدگی اور موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں، پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، 2022 کے سیلاب کی تباہ کاریاں اور نقصانات آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں، نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اور ترقی کا عظیم موقع ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو کثیر قطبی دنیا کے تقاضوں کے مطابق مضبوط اور فعال بنانا ہوگا، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا فائدہ مخصوص طبقوں تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کو ملنا چاہیے، دنیا کے زخموں پر محض مرہم رکھنے کے بجائے انہیں جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری