اسلام آباد میں موٹرسائیکلز پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام آباد میں موٹرسائیکلز پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 17 February, 2026 سب نیوز
وفاقی دارالحکومت میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگنے کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں 20 فروری صبح 10 بجے سے موٹرسائیکلز پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا عمل شروع کیا جائے گا،موٹر سائیکل مالکان کاغذات اور شناختی کارڈ کے ہمراہ شہر بھر میں 13 پوائنٹس سے ایم ٹیگ حاصل کر سکیں گے،
فیصلے کا اطلاق تمام بائکس، بائکیا، ہیوی بائکس اور تمام اقسام کی موٹر سائیکلز پر ہوگا، اب تک مجموعی طور پر 6 لاکھ سے زائد گاڑیوں کو ایم ٹیگ جاری کیے گئے ہیں جبکہ بائکیا اور آن لائن ٹیکسی کی رجسٹریشن کا عمل الگ سے جاری ہے، تمام تر اقدامات کا مقصد شہر اور شہریوں کے سفر کو محفوظ بنانا ہے، شہریوں سے اپیل ہے کہ ایم ٹیگ کے حوالے سے مہم میں ہمارا ساتھ دیں
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے نئے چینی سال کی مبارکباد چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے نئے چینی سال کی مبارکباد محمد صادق خان کی روسی سفیر البرٹ خوریف سے ملاقات، افغانستان اور علاقائی سلامتی پر غور باجوڑ: سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 12 خوارج ہلاک،11 اہلکار شہید قتل کی کوشش سمیت دیگر 5 مقدمات میں عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا گیا سیاست میں ایسا ہوتا ہے، برداشت نہیں کرسکتے تو مدر ٹریسا یا کرکٹ کے گاڈ بن جاتے: صدر زرداری کی پھر عمران پر تنقید موٹرویز اور سڑکوں کی بندش کے خلاف مسلم لیگ (ق) کی پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائرCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایم ٹیگ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :