جدید ٹیکنالوجی کے باوجود رمضان اور عید کا چاند دیکھنے کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
پاکستان میں جب بھی رمضان یا عید کا موقع قریب آتا ہے، پوری قوم کی نظریں آسمان کے بجائے ٹی وی یا موباءل اسکرین اسکرینز پر جم جاتی ہیں۔ سب کو انتظار ہوتا ہے ایک فیصلے کا، جو یہ طے کرتا ہے کہ کل عید ہوگی یا روزہ۔
لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ رویتِ ہلال کمیٹی آخر کام کیسے کرتی ہے؟ اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی ہمیں چھتوں پر دوربینیں لے کر چڑھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟
کہانی شروع ہوتی ہے 1974 میں، جب ایک پارلیمانی قرارداد کے ذریعے اس کمیٹی کو قانونی شکل دی گئی۔ مقصد سادہ مگر چیلنجنگ تھا: پورے ملک میں مذہبی تہواروں کو ایک ہی دن منانا۔ مرکزی کمیٹی میں جہاں تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء بیٹھتے ہیں، وہیں ان کے پہلو بہ پہلو محکمہ موسمیات اور سپارکو کے ماہرین بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ مذہب اور سائنس کا ایک ایسا سنگم ہے جہاں ایک طرف شرعی شہادتیں پرکھی جاتی ہیں، تو دوسری طرف چاند کے مدار کا سائنسی ڈیٹا چیک کیا جاتا ہے۔
طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ ملک بھر میں قائم زونل کمیٹیاں عوام سے شہادتیں جمع کرتی ہیں۔ اگر کوئی عام شہری چاند دیکھنے کا دعویٰ کرے، تو اسے کڑے سوال و جواب سے گزرنا پڑتا ہے، جبکہ ماہرینِ فلکیات یہ بتاتے ہیں کہ کیا اس وقت چاند کی عمر اتنی تھی بھی کہ وہ انسانی آنکھ کو نظر آ سکے؟ جب تمام کڑیاں مل جاتی ہیں، تبھی مرکزی چیئرمین وہ اہم ترین اعلان کرتے ہیں جس کا انتظار کروڑوں پاکستانی کر رہے ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ جب سائنس مہینوں پہلے چاند کی پیدائش کا وقت بتا دیتی ہے، تو اس مشقت کی ضرورت کیا ہے؟ اصل میں یہ معاملہ محض کیلنڈر کا نہیں بلکہ عقیدے کا ہے۔ اسلام میں مہینے کا آغاز 'رویت' یعنی چاند کو آنکھ سے دیکھنے سے مشروط ہے۔ کمیٹی اسی شرعی حکم اور جدید انتظامی ضرورت کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے۔
اگر یہ کمیٹی نہ ہو، تو شاید ہر شہر اور ہر گلی میں الگ عید منائی جا رہی ہو، جیسا کہ اکثر خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ ادارہ جہاں ایک طرف مذہبی فریضہ ادا کرتا ہے، وہیں دوسری طرف قومی یکجہتی اور انتظامی نظم و ضبط کو بھی قائم رکھتا ہے۔ تو اگلی بار جب آپ چاند کے اعلان کا انتظار کریں، تو یاد رکھیے گا کہ اس ایک فیصلے کے پیچھے سائنسی تحقیق کے ساتھ ساتھ صدیوں پرانی مذہبی روایات کا گہرا ملاپ موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :