پاکستان میں جب بھی رمضان یا عید کا موقع قریب آتا ہے، پوری قوم کی نظریں آسمان کے بجائے ٹی وی یا موباءل اسکرین اسکرینز پر جم جاتی ہیں۔ سب کو انتظار ہوتا ہے ایک فیصلے کا، جو یہ طے کرتا ہے کہ کل عید ہوگی یا روزہ۔

لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ رویتِ ہلال کمیٹی آخر کام کیسے کرتی ہے؟ اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی ہمیں چھتوں پر دوربینیں لے کر چڑھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟

کہانی شروع ہوتی ہے 1974 میں، جب ایک پارلیمانی قرارداد کے ذریعے اس کمیٹی کو قانونی شکل دی گئی۔ مقصد سادہ مگر چیلنجنگ تھا: پورے ملک میں مذہبی تہواروں کو ایک ہی دن منانا۔ مرکزی کمیٹی میں جہاں تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء بیٹھتے ہیں، وہیں ان کے پہلو بہ پہلو محکمہ موسمیات اور سپارکو کے ماہرین بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ مذہب اور سائنس کا ایک ایسا سنگم ہے جہاں ایک طرف شرعی شہادتیں پرکھی جاتی ہیں، تو دوسری طرف چاند کے مدار کا سائنسی ڈیٹا چیک کیا جاتا ہے۔

طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ ملک بھر میں قائم زونل کمیٹیاں عوام سے شہادتیں جمع کرتی ہیں۔ اگر کوئی عام شہری چاند دیکھنے کا دعویٰ کرے، تو اسے کڑے سوال و جواب سے گزرنا پڑتا ہے، جبکہ ماہرینِ فلکیات یہ بتاتے ہیں کہ کیا اس وقت چاند کی عمر اتنی تھی بھی کہ وہ انسانی آنکھ کو نظر آ سکے؟ جب تمام کڑیاں مل جاتی ہیں، تبھی مرکزی چیئرمین وہ اہم ترین اعلان کرتے ہیں جس کا انتظار کروڑوں پاکستانی کر رہے ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جب سائنس مہینوں پہلے چاند کی پیدائش کا وقت بتا دیتی ہے، تو اس مشقت کی ضرورت کیا ہے؟ اصل میں یہ معاملہ محض کیلنڈر کا نہیں بلکہ عقیدے کا ہے۔ اسلام میں مہینے کا آغاز 'رویت' یعنی چاند کو آنکھ سے دیکھنے سے مشروط ہے۔ کمیٹی اسی شرعی حکم اور جدید انتظامی ضرورت کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے۔

اگر یہ کمیٹی نہ ہو، تو شاید ہر شہر اور ہر گلی میں الگ عید منائی جا رہی ہو، جیسا کہ اکثر خیبر پختونخوا کے کچھ علاقوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ ادارہ جہاں ایک طرف مذہبی فریضہ ادا کرتا ہے، وہیں دوسری طرف قومی یکجہتی اور انتظامی نظم و ضبط کو بھی قائم رکھتا ہے۔ تو اگلی بار جب آپ چاند کے اعلان کا انتظار کریں، تو یاد رکھیے گا کہ اس ایک فیصلے کے پیچھے سائنسی تحقیق کے ساتھ ساتھ صدیوں پرانی مذہبی روایات کا گہرا ملاپ موجود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟

پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
  • پنجاب میں عید پر صفائی آپریشن مثالی رہا، ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، مریم اورنگزیب