پاکستانیوں کو ویزہ فری انٹری دینے والے 32 ممالک کون سے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
کراچی:
پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں بہتری کے بعد 32 ممالک کا ویزا فری سفر ممکن ہوگیا۔
فروری 2026 کے تازہ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی بہتر ہو کر 97 ویں نمبر پر پہنچ گئی ہے جو جنوری میں 98 اور گزشتہ سال 103 ویں نمبر پر تھی۔
گلف نیوز کے مطابق اس بہتری کے ساتھ پاکستانی شہری اب 32 ممالک میں بغیر ویزا، ویزا آن آرائیول یا ای-ٹی اے (eTA) کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں۔
یہ ممالک کیریبیئن جزائر، افریقی سفاری، جنوبی ایشیائی ثقافتی مراکز اور بحرالکاہل کے جزائر پر محیط ہیں جو سیاحت، کاروبار اور مختصر مدت کے سفر کے لیے سہولت فراہم کرتے ہیں۔
پاکستانی پاسپورٹ کی یہ ترقی سفارتی کوششوں اور بین الاقوامی معاہدوں کا نتیجہ ہے جس سے پاکستانی شہریوں کو بین الاقوامی سفر میں آسانی حاصل ہوگی اور سیاحت، کاروبار اور خطے کے ممالک سے تعلقات میں اضافہ ممکن ہوگا۔
پاکستانی شہری اب درج ذیل ممالک کا سفر آسانی سے کر سکتے ہیں:
بغیر ویزا (Visa-free) 11 ممالک:
بارباڈوس، کوک آئلینڈز، ڈومینیکا، ہیٹی، مائکرونیشیا، مونٹسیراٹ، روانڈا، سینٹ ونسنٹ اینڈ گرینیڈائنز، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، وانواتو، دی گیمبیا
ویزہ آن آرائیول (VOA) 18 ممالک:
برونڈی، کمبوڈیا، کیپ ورد آئیلینڈز، کومورو آئلینڈز، جیبوتی، گنی بساؤ، مڈگاسکر، مالدیپ، موزمبیق، نیپال، نیوے، پالاؤ آئیلینڈز، قطر، ساموا، سینیگال، سیرالیون، تیمور-لیسٹے، ٹوالو
ای-ٹی اے (eTA) 3 ممالک:
کینیا، سیشلز، سری لنکا
واضح رہے کہ عالمی سطح پر سنگاپور کا پاسپورٹ سب سے مضبوط ہے جو 192 ممالک تک ویزا فری رسائی فراہم کرتا ہے،
جاپان اور جنوبی کوریا کے پاسپورٹ پر 187 ممالک میں ویزا فری انٹری ممکن ہے، سویڈن اور یو اے ای کے شہری 186 ممالک میں ویزا لیے بغیر جاسکتے ہیں۔
یورپی ممالک فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین اور سوئٹزرلینڈ کے پاسپورٹس پر 185 ممالک ویزہ فری انٹری دیتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی