بانی پی ٹی آئی کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات کی تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جیل انتظامیہ کی جانب سے تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل میں ایک مخصوص کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے جو سات سیلز پر مشتمل ہے۔ ان کے سیل کے سامنے 57 فٹ لمبی اور 14 فٹ چوڑی راہداری موجود ہے جبکہ کمپاؤنڈ کے ساتھ ایک لان بھی منسلک ہے۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو لان میں چہل قدمی کی سہولت حاصل ہے جہاں وہ کتابیں اور اخبارات پڑھتے ہیں اور دھوپ بھی سینکتے ہیں۔ کمپاؤنڈ میں مجموعی طور پر 30 سے 35 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قدرتی روشنی اور تازہ ہوا کی رسائی دی جا رہی ہے اور انہیں بہتر کلاس کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہیں ورزش کے لیے سائیکلنگ مشین اور دیگر جم کا سامان بھی فراہم کیا گیا ہے۔ خوراک کے حوالے سے بتایا گیا کہ ناشتے میں کھجور، اخروٹ، شہد، کافی، دلیہ، لسی، گرم دودھ، چیا سیڈز اور انار کا جوس شامل ہوتا ہے۔ دوپہر کے کھانے میں دیسی مرغی، مٹن، سلاد اور اچار کے علاوہ بعض اوقات آلو چپس، انڈا فرائی اور مکس دال بھی دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بادام، کشمش، ناریل پاؤڈر، دودھ، کھجور، کیلا اور سیب پر مشتمل شیک بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ جیل حکام کے مطابق تمام سہولیات جیل قوانین کے تحت فراہم کی جا رہی ہیں اور سیکیورٹی کے مناسب انتظامات موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فراہم کی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔