سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خلیل الرحمن خان انتقال کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
لاہور (ویب ڈیسک) سابق جج سپریم کورٹ آف پاکستان و سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس خلیل الرحمن خان انتقال کر گئے۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ آج (مورخہ 17 فروری) بعد از نمازِ مغرب ڈونگی گراؤنڈ گارڈن ٹاؤن لاہور میں ادا کی جائے گی، مرحوم کا جنازہ ان کی رہائش گاہ 63 ابوبکر بلاک، نیو گارڈن ٹاؤن سے شام ساڑھے 5 بجے اٹھایا جائے گا۔
اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق جج سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس خلیل الرحمان خان کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔
انہوں نے کہا کہ جسٹس خلیل الرحمن خان کا شمار ملک کے سینئر اور تجربہ کار ججز میں ہوتا تھا، انکا شمار فرض شناس ججوں میں ہوتا تھا جنہوں نے تمام عمر عدل و انصاف کے لئے کام کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے جسٹس خلیل الرحمان خان کے اہل خانہ سے اظہار افسوس کیا، انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی جسٹس خلیل الرحمان خان کو جنت میں اعلی مقام دے اور ان کے درجات بلند فرمائے، آمین۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جسٹس خلیل
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔