جسٹس انعام امین منہاس نے نجف حمید کا کیس سننے سے معذرت کر لی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام آباد: ہائی کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت بحالی کی درخواست پر غیر متوقع پیش رفت سامنے آئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کیس سننے سے معذرت کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس کو واپس بھجوا دی ہے، جس کے بعد اب نئے بینچ کی تشکیل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران نجف حمید اپنے وکیل بیرسٹر راجا قدیر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے معاملات میں احتیاط ضروری ہے اور اس کیس کو مزید نہیں سنا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجف حمید کو فراڈ کیس میں بڑا ریلیف دیتے ہوئے ان کی گرفتاری عارضی طور پر روک دی تھی اور اسپیشل جج سینٹرل کے فیصلے کے خلاف کارروائی معطل کر دی تھی۔
بعد ازاں ایف آئی اے کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری واپس لینے کی درخواست منظور ہونے پر نجف حمید نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور فیصلے کو چیلنج کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں