10لاکھ خواتین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہورہی ہیں ، گورنر خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (کامرس ڈیسک) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں تقریباً 10لاکھ خواتین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہو رہی ہیں، تاہم یہ تعداد بڑھنے کے بجائے غربت اور معاشی پسماندگی میں کمی کے ساتھ بتدریج کم ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بات 18ویں سالانہ سی ایس آر سمٹ و ایوارڈز کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا اہتمام نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ نے ایک مقامی ہوٹل میں کیا۔ اس موقع پر 70 سے زائد قومی و بین الاقوامی اداروں کو سماجی بہبود، پائیدار ترقی اور کمیونٹی کی فلاح میں نمایاں خدمات پر ایوارڈز سے نوازا گیا۔کارپوریٹ رہنماؤں، پالیسی سازوں اور ترقیاتی ماہرین کے ایک معزز اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گورنر کنڈی نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشی مشکلات کے باعث مزید خاندان خطِ غربت سے نیچے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تاریخی اقدامات کیے، جن میں فرسٹ وومن بینک لمیٹڈ کا قیام اور خواتین پولیس اسٹیشنز کا آغاز شامل ہے، تاکہ صنفی مساوات، سماجی انصاف اور خواتین کی معاشی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری برادری بامعنی سماجی ذمہ داری کے اقدامات کے ذریعے غربت اور پسماندگی کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا کے دروازے کارپوریٹ شعبے کے ساتھ مشترکہ پروگراموں کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں تاکہ محروم طبقات کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔ انہوں نے مشکل سکیورٹی حالات کے باوجود قومی معیشت میں مسلسل کردار ادا کرنے پر صوبے کی کاروباری برادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری جدید کاروباری حکمتِ عملی کا لازمی جزو بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سرمایہ کاری کا مفہوم صرف معاشی اشاریوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد زندگیوں کو بہتر بنانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، غربت کم کرنا اور سماجی استحکام کو مضبوط بنانا بھی ہیسابق سربراہ پاک بحریہ محمد آصف سندیلا نے مووین فاؤنڈیشن کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 2015 میں قائم ہونے والی اس فاؤنڈیشن نے ابتدا میں دو سرکاری اسکولوں کو اپنایا تھا اور اب یہ تعداد بڑھ کر 338 اسکولوں تک پہنچ چکی ہے، جہاں 45 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں 60 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فاؤنڈیشن کے 3,300 فارغ التحصیل افراد میں سے 76 فیصد نے فنی تربیت حاصل کرنے کے بعد خود روزگار اختیار کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ رسمی تعلیم کے ساتھ تکنیکی مہارتیں بھی ناگزیر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔