Daily Mumtaz:
2026-07-23@23:26:47 GMT

پائلٹ نے چلتی ٹرین پر طیارہ اتار کر دنیا کو حیران کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

پائلٹ نے چلتی ٹرین پر طیارہ اتار کر دنیا کو حیران کر دیا

انقرہ (ویب ڈیسک) اطالوی پائلٹ نے ترکیہ میں چلتی ٹرین پر طیارہ اتار کر دنیا کو حیران کر دیا۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 120 کلو میٹر کی رفتار سے دوڑتی مال بردار ٹرین کے کنٹینر پر لینڈنگ ہوا بازی کی تاریخ کا خطرناک ترین اسٹنٹ قرار دیا جا رہا ہے، پائلٹ ڈاریو کوسٹا نے ناصرف طیارہ کامیابی سے ٹرین پر اتارا بلکہ چند سیکنڈز کے بعد وہیں سے دوبارہ اڑان بھر کر عالمی ریکارڈ بھی بنا دیا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پائلٹ کمال مہارت سے ٹرین کے اوپر طیارے کو اتارتا ہے اور چند سیکنڈ بعد دوبارہ اڑان بھر لیتا ہے۔

View this post on Instagram

A post shared by Red Bull (@redbull)


پائلٹ کا کہنا ہے کہ یہ ایک بلائنڈ لینڈنگ تھی جہاں غلطی کا مطلب موت تھا لیکن سخت محنت اور جنون نے اس ناممکن مشن کو ممکن بنا دیا۔

واضح رہے کہ 2023 میں دبئی کے مشہور ہوٹل برج العرب کے ہیلی پیڈ پر پائلٹ نے طیارہ اتار کر سب کو حیران کر دیا تھا، ستائیس میٹر کے دائرے میں خطرناک اسٹنٹ کو ممکن بنانے کیلئے ایوی ایشن ٹیم نے طیارے میں کافی تبدیلیاں کی تھیں۔

پائلٹ نے تاریخی کارنامہ انجام دینے کے لیے چھ سو پچاس مرتبہ پریکٹس بھی کی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پائلٹ نے

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت