علیمہ خان بانی کی بیماری کیش کرانا چاہتی ہیں: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
محسن نقوی---اسکرین گریب
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی کی آنکھ سے متعلق پروپیگنڈا کیا گیا، اس معاملے میں بھر پور قسم کی سیاست کھیلی گئی ہے، علیمہ خان بانی کی بیماری کیش کرانا چاہتی ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی پی ٹی آئی قیادت سے رابطے میں تھے، علاج کے معاملے میں کوئی بھی قیدی ہو آئین و قانون کے تحت اسے سہولت فراہم کریں گے، ہم نے کہا کہ کسی معروف آئی اسپیشلسٹ کا نام دے دیں چیک اپ کرا دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے لیے اسپتال منتقل کریں، ہم نے کہا یہ ممکن نہیں، ہم نے سرکاری اور پرائیویٹ بہترین ڈاکٹروں کا انتخاب کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم نے پی ٹی آئی چیئرمین کو کہا کہ آپ خود ڈاکٹرز کی موجودگی کا جائزہ لے لیں، ہم ایک گھنٹے تک گوہر صاحب کا انتظار کرتے رہے، گوہر صاحب نے کہا کہ پارٹی قیادت سے مشاورت ہوئی وہ نہیں آسکیں گے، ساڑھے 3 بجے ڈاکٹرز نے چیک اپ کیا، ڈیڑھ گھنٹے تک وہاں رہے، ہم نے پھر بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی و سینیٹ آ جائیں، انہیں کہا کہ اپنے ڈاکٹروں کو بھی ساتھ لے آئیں۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس کی سماعت کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ڈاکٹر تو لاہور میں ہیں، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی و سینیٹ پمز آ گئے، وہاں پر انہوں نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ڈاکٹروں سے ملاقات کی، ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات میں 45 منٹ 2 ڈاکٹرز فون پر ان ڈاکٹرز سے بریفنگ لیتے رہے، تقریباً 45 منٹ ہی سیاسی رہنماؤں نے بریفنگ لی، ان کے ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ بہترین علاج ہو رہا ہے، اگر ہم بھی علاج کرتے تو ایسا ہی کرتے، سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ ہم علاج سے مطمئن ہیں، میں نے کہا کہ آپ اپنے ڈاکٹرز سے پوچھ لیں اگر کوئی ٹیسٹ رہ گیا ہے تو بھی کرا دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ علیمہ خان نے پارٹی کے لوگوں کو کہا کہ یہ ہم مان گئے تو ہمارا ایشو ڈاؤن ہو جائے گا، علیمہ خان کی وجہ سے میڈیکل چیک اپ نہیں ہو سکا، اس معاملے میں بھرپور قسم کی سیاست کھیلی گئی ہے، اگر آپ کی نیت ٹھیک ہوتی تو آپ پہلے روز ہی مان جاتے، سیاسی لیڈر آن بورڈ ہوتے تھے لیکن علمیہ خان معاملے پر ویٹو کر دیتی تھیں، مسئلہ یہ ہے کہ یہ اس معاملے کو کیش کرنا چاہتی ہیں، بانئ پی ٹی آئی کو آنکھ میں انجیکشن لگنا تھا، ہم نے احتیاطاً اسپتال جا کر بانئ پی ٹی آئی کو انجیکشن لگوایا۔
ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی قیدی ہو، اس کو علاج کی ضرورت ہے تو یہ ہمارا فرض ہے، لیکن ملک میں دیگر قیدی بھی ہیں، بانئ پی ٹی آئی کو جو کھانا ملتا ہے وہ سب کچھ ریکارڈ کا حصہ ہے، پھر یہ روڈ بلاکس، لوگوں کو تنگ کرنا کیوں؟ صحافیوں کو لے جا کر دکھانا چاہیے کہ وہاں جو سہولتیں ہیں وہ دیکھیں، حکومت اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی، آپ کے پاس کل میڈیکل رپورٹ بھی آ گئی ہے اور اس میں تمام چیزیں تھیں، بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو غیر مناسب ہیں، جو میں اس وقت شیئر کروں، اس طرح کا تماشہ بنانا بالکل غیر مناسب ہے اور لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل کے معاملے پر پنجاب حکومت سے معلوم کر کے بتائیں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ آچکا ہے کہ کے پی میں بند سڑکوں کو بحال کیا جائے، کسی اور کے عزائم میں اپنی سیاست کرنے والے عوام کے دشمن ہیں، ہم عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے، کوشش کی گئی کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں خرابی پیدا کی جائے، ہم نے صورتِ حال کو خوش اسلوبی سے سنبھالا، کوئی بھی مسئلہ ہو، اس کا حل بات چیت سے ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانئ پی ٹی آئی محسن نقوی اس معاملے علیمہ خان نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ا
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔