اماراتی صدر کی صحت سے متعلق قیاس آرائیاں، ترک صدر کا سوشل میڈیا پیغام حذف
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
استنبول: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے متحدہ عرب امارات کے دورے کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا، جس کی وجہ اماراتی صدر محمد بن زاید النہیان کی صحت سے متعلق مسئلہ بتایا گیا۔ تاہم بعد میں یہ بیان سوشل میڈیا سے حذف کر دیا گیا۔
صدر اردوان کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے محمد بن زاید سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جلد صحت یابی کی دعا کی۔
پیغام میں مزید کہا گیا تھا کہ صدر اردوان متحدہ عرب امارات کا دورہ کسی اور تاریخ پر کریں گے، جس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اگرچہ یہ پیغام جلد ہی حذف کر دیا گیا، تاہم ترک سرکاری میڈیا نے اسے نشر کر دیا تھا، جس کے بعد بعض رپورٹس بھی واپس لے لی گئیں۔
امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کی تصدیق کی، تاہم دورے کی منسوخی یا صحت سے متعلق کسی مسئلے کا ذکر نہیں کیا۔
ادھر اماراتی صدر کے دفتر کی جانب سے ہفتے کے روز جاری تصاویر میں محمد بن زاید کو قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی کے ساتھ خوشگوار موڈ میں ملاقات کرتے دکھایا گیا، جس سے وہ بظاہر صحت مند نظر آئے۔
ترک اور اماراتی حکام کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔