پشاور ہائیکورٹ کا موٹروے اور جی ٹی روڈ بندش پر اظہار برہمی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
پشاور ہائیکورٹ میں موٹر وے اور جی ٹی روڈ کی بندش کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو فوری طور پر سڑکیں کھولنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فراح جمشید نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے آئی جی پولیس سے استفسار کیا کہ اب تک سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف کتنے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئین ہر شہری کو آزادانہ نقل و حرکت کا حق دیتا ہے اور سڑکوں کی بندش سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے انبار انٹرچینج پر موٹر وے جبکہ اٹک پل کے قریب جی ٹی روڈ پر دھرنا دے رکھا ہے، جس سے بین الصوبائی رابطے متاثر ہوئے ہیں اور عام شہریوں، مریضوں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ عدالت نے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور آئی جی پولیس ذوالفقار کو طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بتایا جائے سڑکیں کھولنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ آئی جی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ تین دن سے سڑکیں بند ہیں، پہلے 14 مقامات پر احتجاج تھا جو اب کم ہو کر 6 پوائنٹس تک رہ گیا ہے۔ انہوں نے دو دن کی مہلت طلب کی تاہم عدالت نے فوری اقدامات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ موٹر وے کسی صورت بند نہیں ہونی چاہیے۔ جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی خراب ہے، ایسے میں سڑکوں کی بندش عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان کھلا ہے اور خیبرپختونخوا بند ہے، یہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف اقدام ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ آج ہی سڑکیں کھولی جائیں اور کل رپورٹ پیش کی جائے۔ بعد ازاں سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔ دوسری جانب، مسلم لیگ (ق) خیبر پختونخوا نے بھی موٹر ویز اور دیگر سڑکوں کی بندش کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی۔ مرکزی ترجمان مسلم لیگ (ق) مصطفیٰ ملک کے مطابق مسلم لیگی رہنما بلال محمد زئی کی جانب سے محمد انتخاب خان چمکنی ایڈووکیٹ نے رٹ پٹیشن دائر کی۔ رٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ روڈ بندش کے باعث شہریوں، مسافروں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور صوبائی حکومت کی سرپرستی میں سڑکیں بند ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے فوری نوٹس لے کر سڑکوں کی بندش ختم کرانے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔ مصطفیٰ ملک نے کہا کہ یہ کیسی حکومت ہے جو اپنے ہی عوام کے راستے بند کر کے بیٹھی ہے۔ ان کے مطابق انتخاب خان اور بلال محمد زئی نے عدالت کے سامنے عوام کا مقدمہ رکھا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ عدالت فوری حکم نامہ جاری کر کے عوام کو مشکلات سے نکالے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سڑکوں کی بندش آئی جی پولیس عدالت نے کے خلاف ہے اور
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔