سری لنکا کا پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا رکاوٹیں ختم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کولمبو: سری لنکا نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم اور مثبت پیش رفت کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو درپیش ویزا مشکلات ختم کرنے اور پاکستان کو فوری طور پر تمام منفی ویزا فہرستوں سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سری لنکن صدر انورا کمارا ڈسانائیکے سے اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کیا گیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں پاکستانی شہریوں کو ویزا کے حصول میں درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس پر سری لنکن صدر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ پاکستان کو تمام منفی لسٹوں سے فوری طور پر کلیئر کیا جائے اور پاکستانیوں کے لیے ویزا عمل کو سہل بنایا جائے۔ اس اہم ملاقات میں وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز چوہدری سالک حسین بھی شریک تھے۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور سکیورٹی فورسز کی مشترکہ تربیت جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سری لنکن صدر کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی، جسے میزبان صدر نے خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے جلد دورے کی یقین دہانی کرائی۔
سری لنکن صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے کولمبو میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کے فیصلے پر وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور دوستی کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک سری لنکا تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی اور باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔
صدر انورا کمارا کا کہنا تھا کہ سری لنکا کی وزیراعظم بھی جلد پاکستان کا دورہ کریں گی تاکہ دوطرفہ تعلقات، تجارتی روابط اور عوامی سطح پر روابط کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ اس فیصلے کو پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سری لنکا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔