پاکستان آئی ایم ایف اہداف کے قریب، مالیاتی کارکردگی بہتر
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسٹیٹ بینک کی مالیاتی کارکردگی میں بہتری نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے مقررہ اہداف کے قریب پہنچا دیا ہے۔ ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی رپورٹ کے مطابق مقررہ حد پر رہی۔
اسٹیٹ بینک کے مقامی اثاثے اور فارن کرنسی سواپ کے اہداف بھی حاصل ہوئے۔ ستمبر اور دسمبر 25ء کے دوران کرنسی سواپ 2.
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ کلائمیٹ فائنانسنگ پر مذاکرات کے لیے تیار
حکومت نے پرائمری سرپلس میں بھی ریکارڈ 3.5 ٹریلین روپے حاصل کیے، جب کہ آئی ایم ایف نے 460 ارب روپے کا ہدف دیا تھا۔ دسمبر کے لیے بچت کا ہدف 3.2 ٹریلین روپے تھا، لیکن حکومت نے 4.1 ٹریلین روپے کی بچت ریکارڈ کی۔
سود کی ادائیگیوں کے علاوہ حکومت نے اپنے دیگر اخراجات بھی اپنی آمدنی کے اندر رکھے۔ اسٹیٹ بینک نے ضرورت سے زیادہ نوٹ نہیں چھاپے اور مقامی قرضوں کو کنٹرول کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئی ایم ایف سے جاری مذاکرت کی جلد تکمیل کے لیے پُرعزم
ایف بی آر کو ٹیکس اہداف میں تقریباً 336 ارب روپے کی کمی کا سامنا رہ سکتا ہے، تاہم سپر ٹیکس سے یہ کمی کسی حد تک پوری کی جا سکتی ہے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اہداف بھی تقریباً مکمل ہوئے، اگرچہ غریبوں کی مدد کے پچھلے ہدف میں معمولی کمی رہی، لیکن اس بار حکومت مکمل اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسٹیٹ بینک پاکستان مالیاتی اہداف وفاقی حکومت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک پاکستان مالیاتی اہداف وفاقی حکومت اسٹیٹ بینک ایم ایف کے لیے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔