WE News:
2026-06-02@20:40:12 GMT

پاکستان آئی ایم ایف اہداف کے قریب، مالیاتی کارکردگی بہتر

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

پاکستان آئی ایم ایف اہداف کے قریب، مالیاتی کارکردگی بہتر

اسٹیٹ بینک کی مالیاتی کارکردگی میں بہتری نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے مقررہ اہداف کے قریب پہنچا دیا ہے۔ ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی رپورٹ کے مطابق مقررہ حد پر رہی۔

اسٹیٹ بینک کے مقامی اثاثے اور فارن کرنسی سواپ کے اہداف بھی حاصل ہوئے۔ ستمبر اور دسمبر 25ء کے دوران کرنسی سواپ 2.

25 بلین ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں 2.2 بلین ڈالر تک برقرار رہا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ کلائمیٹ فائنانسنگ پر مذاکرات کے لیے تیار

حکومت نے پرائمری سرپلس میں بھی ریکارڈ 3.5 ٹریلین روپے حاصل کیے، جب کہ آئی ایم ایف نے 460 ارب روپے کا ہدف دیا تھا۔ دسمبر کے لیے بچت کا ہدف 3.2 ٹریلین روپے تھا، لیکن حکومت نے 4.1 ٹریلین روپے کی بچت ریکارڈ کی۔

سود کی ادائیگیوں کے علاوہ حکومت نے اپنے دیگر اخراجات بھی اپنی آمدنی کے اندر رکھے۔ اسٹیٹ بینک نے ضرورت سے زیادہ نوٹ نہیں چھاپے اور مقامی قرضوں کو کنٹرول کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئی ایم ایف سے جاری مذاکرت کی جلد تکمیل کے لیے پُرعزم

ایف بی آر کو ٹیکس اہداف میں تقریباً 336 ارب روپے کی کمی کا سامنا رہ سکتا ہے، تاہم سپر ٹیکس سے یہ کمی کسی حد تک پوری کی جا سکتی ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اہداف بھی تقریباً مکمل ہوئے، اگرچہ غریبوں کی مدد کے پچھلے ہدف میں معمولی کمی رہی، لیکن اس بار حکومت مکمل اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسٹیٹ بینک پاکستان مالیاتی اہداف وفاقی حکومت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک پاکستان مالیاتی اہداف وفاقی حکومت اسٹیٹ بینک ایم ایف کے لیے

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم