ٹی 20 ورلڈ کپ: زمبابوے سپر 8 مرحلے میں پہنچ گیا، آسٹریلیا اور آئرلینڈ ایونٹ سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پالی: زمبابوے کرکٹ ٹیم نے مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ بی سے سپر 8 مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ زمبابوے اور آئرلینڈ کرکٹ ٹیم کے درمیان میچ بارش کے باعث بغیر ایک بھی گیند کرائے منسوخ کر دیا گیا، جس کے بعد زمبابوے اگلے مرحلے میں پہنچ گیا۔
ٹی 20 ورلڈ کپ کے ٹورنامنٹ کے 32ویں میچ کے منسوخ ہونے کے نتیجے میں آسٹریلیا کرکٹ ٹیم اور آئرلینڈ کی سپر 8 میں رسائی کی امیدیں ختم ہو گئیں۔ یہ 2009 کے بعد پہلا موقع ہے کہ آسٹریلیا ٹی 20 ورلڈ کپ کے ابتدائی مرحلے ہی میں باہر ہو گیا ہے۔ 2021 کا چیمپئن آسٹریلیا اس بار گروپ اسٹیج سے آگے نہ بڑھ سکا۔مسلسل بارش کے باوجود زمبابوے کے شائقین بڑی تعداد میں اسٹیڈیم میں موجود رہے اور اپنی ٹیم کی کامیابی کا جشن مناتے رہے۔ خراب موسم بھی ان کے جوش و خروش کو کم نہ کر سکا۔
دوسری جانب آئرلینڈ کے کھلاڑیوں نے میدان سے واپس جاتے ہوئے اسٹیڈیم میں موجود اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔زمبابوے کے کپتان سکندر رضا بعد ازاں بالکونی میں مسکراتے ہوئے نظر آئے، جو ٹیم کی تاریخی کامیابی اور مداحوں کی خوشی کا مظہر تھا۔ اگلے مرحلے میں زمبابوے کا بھارت ، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز سے سامنا ہوگا۔
واضح رہے کہ زمبابوے 2024 کے ایڈیشن میں شامل نہیں تھا، تاہم اس بار شاندار واپسی کرتے ہوئے اس نے مضبوط حریفوں کے درمیان سپر 8 مرحلے میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مرحلے میں ا سٹریلیا ٹی 20 ورلڈ ا ئرلینڈ
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔