پاکستان کو موبائل الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ حب بنانا ہدف، ہارون اختر
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پہلی بار میڈ ان پاکستان الیکٹرانکس ڈیوائسز اور موبائل فونز مقامی سطح پر تیار کرنے کے لیے سات سالہ پالیسی تیار کر لی گئی، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام سے سالانہ چالیس کروڑ ڈالر کی آمدن متوقع ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کی زیر صدارت پاکستان میں الیکٹرانک ڈیوائسز اور موبائل فون سطح پر تیاری کی پالیسی سے متعلق اجلاس ہوا ۔ تمام شرکت داروں اور پالیسی سازوں نے اجلاس میں شرکت کی ۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں موبائل اینڈالیکٹرانک ڈیوائسزمینوفیکچرنگ پالیسی دوہزار چھبیس تا تینتیس پرغور کیا گیا ۔ انجینیئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے حکام نے بتایا کہ پالیسی وزیرِاعظم کو پیش کرنے کیلئے تیار کر لی گئی ہے۔
معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ موبائل فون الیکٹرانک ڈیوائسزکی مقامی تیاری کا باقاعدہ آغازہوگا، یہ پالیسی صنعتی شعبےمیں نئی پیشرفت کاسنگِ میل ہے۔ عالمی کمپنیوں کو پاکستان میں پلانٹس لگانےکی دعوت دی جائے گی ۔
معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان کوخطےمیں موبائل الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ حب بنانےکا ہدف ہے۔ موبائل فونزکی ری ایکسپورٹ سے سالانہ تیس سے چالیس کروڑڈالرآمدن متوقع ہے۔ اجلاس میں ای ڈی بی میں موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیوائسز سیل قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔