پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے عمران خان  نے ایک بار پھر صرف اپنے ذاتی ڈاکٹرز سے ملنے کا کہا ہے جو اُن کا آئینی و قانونی حق ہے۔ جعلی حکومت اور اُن کو لانے والوں کی ہٹ دھرمی سے شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں جوکہ خطرناک ہے۔ ایسی حرکتوں سے ملکی حالات کو زبردستی خراب کیا جا رہا ہے۔

ایکس پر اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے کارکنان جو اپنی مدد آپ پرامن دھرنا دیے ہوئے ہیں اُن کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان  کا اُن کے ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی ممبر کی موجودگی میں بہترین علاج ہو۔

وفاقی وزیر اویس لغاری نے رمضان المبارک میں سحر و افطار میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دیے

سہیل آفریدی نے مزید کہا " میرے خیال میں معزز عدلیہ کو کوئی بھی حکم دینے سے پہلے مسئلہ پوچھنا چاہیے کہ لوگ چاہتے کیا ہیں؟ بیٹھے کیوں ہے؟ کیوں اُن کے لیڈر کو اُن کا آئینی و قانونی حق نہیں دیا جا رہا؟ کیوں ملاقاتیں بند ہیں؟ کیوں عدالتیں ایک سال سے اُن کے کیسز نہیں سُن رہیں؟ کیوں 3،3 ججز کے احکامات کو اڈیالہ جیل کی انتظامیہ ردی کی ٹوکری میں پھینک رہی ہے؟ کیوں اکتوبر 2024 کے بعد عمران خان صاحب سے اُن کے ذاتی معالج کو نہیں ملوایا جا رہا؟ آنکھ کی تکلیف کو یہاں تک پہچانے والا کون ہے؟کیا آئین و قانون صرف پاکستان تحریک انصاف کے لیے ہے؟ پاکستان کے تمام ادارے پاکستان تحریک انصاف کی لیڈرشپ اور ورکرز کو کیوں دوسرے درجے کا شہری سمجھ رہے ہیں؟ کیا ہم پاکستانی شہری نہیں ہیں؟"

ماہِ رمضان 2026 کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر خوشگوار موسم کی توقع ہے،این ڈی ایم اے نے جائزہ جاری کر دیا

انہوں نے کہا کہ عدالت کے احکامات کے بعد آئی جی پولیس خیبر پختونخواہ کا ردعمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کالی وردی کے پیچھے حکم و احکامات خاکی وردی کے ہیں۔ آئی جی وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور جب ایک دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں باہر سے لائے گئے پولیس کے بڑے اور صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو آمنے سامنے لایا جائے تو حالات کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے؟

سہیل آفریدی کے مطابق یہ یاد رہے کہ ہم عمران خان  کی صحت پر سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ اور انتہائی تکلیف کے باوجود بہت برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں- یہ بھی ذہن میں ہو کہ عمران خان  کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہیں۔  پاکستانی عوام مزید ظلم برداشت نہیں کریں گے  گی  اور نہ ہی ہی ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا ماہ رمضان میں کاروباری سرگرمیوں پر بڑا ریلیف ، 24گھنٹے کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے دی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سہیل آفریدی رہے ہیں جا رہا

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری