مارٹن لوتھر کے قریبی ساتھی اور عظیم رہنما جیسّی جیکسن 84 سال کی عمر میں انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
امریکی شہری حقوق کے عظیم رہنما جَیسّی جیکسن 84 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد جہان فانی سے کوچ کرگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں شہری حقوق کی تحریک کے صفِ اول کے رہنما، ممتاز مذہبی شخصیت اور ڈیموکریٹک سیاست کے نمایاں چہرے 84 سالہ جَیسی جیکسن اعصابی بیماری میں مبتلا تھے۔
جَیسّی جیکسن ایک دہائی سے زائد عرصے سے پالسی نامی اعصابی بیماری میں مبتلا تھے۔ اس سے قبل انھیں پارکنسنز کی تشخیص بھی ہوئی تھی جب کہ دو مرتبہ کووِڈ-19 کے باعث اسپتال میں زیرِ علاج بھی رہے ہیں۔
ان کے اہلِ خانہ نے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جیسّی جیکسن نہ صرف اپنے خاندان بلکہ دنیا بھر کے مظلوم، بے آواز اور نظرانداز کیے گئے لوگوں کے لیے ایک خدمت گزار رہنما تھے۔
شہری حقوق کی تحریک میں کردار
1960 کی دہائی سے شہری حقوق کی تحریک اور ڈیموکریٹک سیاست کا مستقل حوالہ بننے والے جیکسن، عظیم رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قریبی ساتھی اور شاگرد رہے۔
مارٹن لوتھر کے ہمراہ اور پھر ان کے بعد بھی جیسی جیکسن نے نسلی امتیاز، غربت اور معاشی عدم مساوات کے خلاف جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔
صدارتی سیاست اور رینبو کولیشن
جَیسّی جیکسن نے 1984 اور پھر 1988 میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی کے لیے بھرپور مہم چلائی تھی۔
1988 کی صدارتی مہم میں ان کی جاندار کارکردگی نے امریکی سیاست میں سیاہ فام امیدواروں کے لیے نئی راہیں کھولیں۔
بعد ازاں پہلے سیاہ فام امریکی صدر باراک اوباما نے اعتراف کیا کہ جیسّی جیکسن کی جدوجہد نے ان کی کامیابی کی بنیاد رکھی۔
جیکسن نے رینبو کولیشن کے تصور کو فروغ دیا، جس کا مقصد سیاہ فام، غریب، محنت کش اور دیگر محروم طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا تھا۔
ان کی قائم کردہ تنظیم نے تعلیم، روزگار اور معاشی انصاف کے لیے عملی اقدامات کیے جن کے تحت ہزاروں خاندانوں کو مالی امداد اور لاکھوں ڈالر کے تعلیمی وظائف فراہم کیے گئے۔
یاد رہے کہ جَیسی جیکسن 8 اکتوبر 1941 کو جنوبی کیرولائنا کے شہر گرین ویل میں پیدا ہوئے اور زمانہ طالب علمی کے زمانے ہی سے امتیازی قوانین کے خلاف آواز اٹھائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔