مسلم لیگ (ق) کی سڑکوں کی بندش کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
رٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ روڈ بندش کے باعث شہریوں، مسافروں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور صوبائی حکومت کی سرپرستی میں سڑکیں بند ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے فوری نوٹس لے کر سڑکوں کی بندش ختم کرانے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ (ق) خیبر پختونخوا نے موٹر ویز اور دیگر سڑکوں کی بندش کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی۔ مرکزی ترجمان مسلم لیگ (ق) مصطفیٰ ملک کے مطابق مسلم لیگی رہنما بلال محمد زئی کی جانب سے محمد انتخاب خان چمکنی ایڈووکیٹ نے رٹ پٹیشن دائر کی۔ رٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ روڈ بندش کے باعث شہریوں، مسافروں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور صوبائی حکومت کی سرپرستی میں سڑکیں بند ہیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے فوری نوٹس لے کر سڑکوں کی بندش ختم کرانے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔
مصطفیٰ ملک نے کہا کہ یہ کیسی حکومت ہے جو اپنے ہی عوام کے راستے بند کر کے بیٹھی ہے۔ ان کے مطابق انتخاب خان اور بلال محمد زئی نے عدالت کے سامنے عوام کا مقدمہ رکھا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ عدالت فوری حکم نامہ جاری کر کے عوام کو مشکلات سے نکالے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سڑکوں کی بندش بندش کے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔