سندھ حکومت اور امریکا کا 1300 پرائمری اسکولوں میں مفت کھانے کی فراہمی کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
حکومتِ سندھ نے امریکی محکمہ زراعت کے تعاون سے صوبے کے 1300 سرکاری پرائمری اسکولوں میں زیرِ تعلیم دو لاکھ سے زائد طلبہ کو مفت پکا ہوا کھانا اور گھروں کے لیے راشن فراہم کرنے کا معاہدہ طے کیا ہے۔
منصوبے کے تحت امریکا میک گورن ڈول پروگرام کے ذریعے 80 ملین ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرے گا۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں ہوئی، جہاں سندھ حکومت کی نمائندگی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کی، جبکہ امریکا کی جانب سے امریکی قونصل جنرل چارلس گڈمین نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
تقریب میں سیو دی چلڈرن پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر محمد خرم گوندل اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر کوکو اُشیاما بھی موجود تھیں۔
یہ مفاہمتی یادداشت سندھ حکومت، امریکی محکمہ زراعت، ورلڈ فوڈ پروگرام اور سیو دی چلڈرن کے مابین طے پائی ہے۔ منصوبے کے تحت سندھ بھر کے منتخب پرائمری اسکولوں میں طلبہ کو روزانہ پکا ہوا کھانا فراہم کیا جائے گا جبکہ گھر کے لیے راشن بھی دیا جائے گا۔ پروگرام پر عملدرآمد سیو دی چلڈرن اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے کیا جائے گا۔
اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ یہ منصوبہ غذائی قلت سے نمٹنے اور اسکولوں میں حاضری بڑھانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے پسماندہ علاقوں میں بچوں میں غذائی قلت نمایاں ہے، جو نہ صرف صحت بلکہ سیکھنے کے عمل کو بھی شدید متاثر کرتی ہے۔ آج ہم سندھ میں تعلیم اور غذائیت کے ذریعے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
صوبائی وزیر تعلیم نے امید ظاہر کی کہ اسکول میلز پروگرام اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں لانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ اساتذہ، ہیڈ ٹیچرز اور اسکول منیجمنٹ کمیٹیوں کو فوڈ سیفٹی اور نیوٹریشن سے متعلق تربیت دی جائے گی، جبکہ منصوبے کے تحت اسکولوں میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت (واش) کی سہولتوں کی بحالی بھی شامل ہے۔
پروگرام کے لیے امریکی گندم، دالیں اور پکانے کا تیل فراہم کیے جائیں گے، جبکہ پھل اور سبزیاں مقامی کسانوں سے خریدی جائیں گی، جس سے صوبائی معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔ منصوبے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک جوائنٹ اسٹیئرنگ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسکولوں میں کے لیے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔