پاکستان کی نوجوان اور ماہر افرادی قوت امریکا کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
امریکا اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک ورک فورس تعاون پر مبنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ امریکا ٹیکنالوجی میں عالمی سطح پر رہنما ہے، تاہم پاکستان اپنی نوجوان، ہنر مند اور لاگت کے لحاظ سے مؤثر افرادی قوت کے ذریعے ایک منفرد اور قیمتی اثاثہ فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 240 ملین سے زیادہ ہے، جو اسے دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بناتی ہے۔ اس میں سے تقریباً 2 تہائی آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے، جو عالمی سطح پر کام کرنے والی نوجوان آبادی کا قریباً ایک چوتھائی حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی آزادی کے 250 سال مکمل، پاکستان امریکا دوطرفہ تعاون میں اضافہ
’10 سے 24 سال کے درمیان 65.
ملازمت یافتہ آبادی میں 76 فیصد (42.6 ملین) ہنر مند ہیں، جن میں سے 8.7 ملین افراد آئی ٹی، انجینیئرنگ اور بزنس سروسز جیسے اعلیٰ ہنر والے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔
پاکستان دنیا کے اہم فری لانسنگ ممالک میں شامل ہے اور سافٹ ویئر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ٹیکنالوجی سروسز میں نمایاں کارکردگی رکھتا ہے۔
ملک میں 116 ملین انٹرنیٹ صارفین اور 190 ملین اسمارٹ فون کنیکشنز موجود ہیں، جو ایک وسیع ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کو سپورٹ کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی نوجوان اور ہنر مند افرادی قوت امریکی کمپنیوں کے لیے اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔
’ان وسائل سے استفادہ کرکے امریکی ادارے اپنی سرگرمیاں بڑھا سکتے ہیں جبکہ سستی، انگریزی بولنے والی اور اعلیٰ ہنر مند افرادی قوت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: پاکستان امریکا مثبت اور تعمیری روابط نے بھارت میں بے چینی پیدا کردی
رپورٹ کے مطابق یہ تعاون نہ صرف امریکی کاروبار کے لیے مفید ہوگا بلکہ پاکستان کی ترقی میں بھی مدد فراہم کرے گا اور اسے عالمی ویلیو چینز میں ایک لازمی پارٹنر کے طور پر مستحکم کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا پاکستان ماہر افرادی قوت وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاکستان ماہر افرادی قوت وی نیوز افرادی قوت پاکستان کی کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔