تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران اسسٹنٹ کمشنر ہاظم بنگوار پر پیٹرول بم سے حملہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
سٹی 42: کراچی کی لی مارکیٹ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران اسسٹنٹ کمشنر ہاظم بنگوار پر پیٹرول بم سے حملہ کیا گیا جس میں وہ محفوظ رہے۔
ہاظم بنگوار کا کہنا تھا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا جا رہا تھا کہ اس دوران ان پر نامعلوم شخص کی جانب سے پیٹرول بم پھینکا گیا لیکن وہ بچ گئے جبکہ پیٹرول بم گرنے سے ایک دکان میں آگ لگ گئی۔ہاظم بنگوار نے بتایا کہ حملے میں ملوث تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
سابق ایم پی اے قربان علی چوہان پیپلز پارٹی میں شامل
ہاظم بنگوار کا کہنا تھا کہ دکان پر لگی آگ پر بھی اسی وقت اپنی مدد آپ کے تحت قابو پایا گیا جب کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن بھی مکمل کیا گیا۔
حاظم بھنگوار نے کہا گلیوں سے پیٹرول بم سے لیس شرپسندوں نے حملہ کردیا،ہم اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں،
لیمارکیٹ کو کلئیر کیا جائے گا اور ہر مافیا سے پاک کیا جائے گا اللہ کا شکر ہے کہ تمام ٹیم ممبران میرے محفوظ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: تجاوزات کے خلاف ہاظم بنگوار پیٹرول بم
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔