کراچی، تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران اسسٹنٹ کمشنر حازم بنگوار پر پٹرول بم حملہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
کراچی کی لی مارکیٹ میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے جاری آپریشن اس وقت کشیدگی کا شکار ہو گیا جب اسسٹنٹ کمشنر حازم بنگوار کو پٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ خوش قسمتی سے اسسٹنٹ کمشنر حملے میں محفوظ رہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، ڈیفنس میں سینیئر وکیل پر مسلح افراد کا حملہ
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ایک نامعلوم شخص نے پیٹرول بم پھینکا جو ایک دکان کے اندر جا گرا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ موقع پر موجود اہلکاروں اور عملے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔
یہ بھی پڑھیں:من بھاتے لباس پہننے والے اسسٹنٹ کمشنر حازم بھنگوار کا نقادوں کو جواب
واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملے میں ملوث 3 افراد کو حراست میں لے لیا، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے باوجود تجاوزات کے خلاف آپریشن مکمل کیا گیا اور کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن اسسٹنٹ کمشنر پٹرول بم حملہ تجاوزات کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پٹرول بم حملہ تجاوزات کراچی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔