کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن؛ اسسٹنٹ کمشنر حازم بھنگوار کی ٹیم پر پیٹرول بم حملہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
کراچی میں واقع لی مارکیٹ میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران شرپسند عناصر نے اسسٹنٹ کمشنر حازم بھنگوار کی ٹیم پر پیٹرول بم سے حملہ کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آرام باغ کے اسسٹنٹ کمشنر حازم بھنگوار کی سربراہی میں لی مارکیٹ میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران نامعلوم شرپسندوں نے پیٹرول بم سے حملہ کر دیا۔ تاہم خوش قسمتی سے اس واقعے میں اسسٹنٹ کمشنر سمیت تمام ٹیم ممبران محفوظ رہے۔
اسسٹنٹ کمشنر حازم بھنگوار کے مطابق ضلعی انتظامیہ لی مارکیٹ اور آرام باغ میں عرصہ دراز سے قائم غیر قانونی تجاوزات اور مبینہ مافیا کے خلاف کارروائی کر رہی تھی کہ اسی دوران قریبی گلیوں سے پیٹرول بم سے لیس شرپسندوں نے اچانک حملہ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔ حازم بھنگوار نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے گھبرانے والی نہیں اور غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے لیے آپریشن بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔
اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ لیمارکیٹ کو مکمل طور پر کلیئر کیا جائے گا اور اسے ہر قسم کے مافیا سے پاک کیا جائے گا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے باوجود تمام افسران اور عملہ محفوظ ہے اور کوئی زخمی یا جانی نقصان نہیں ہوا۔
پیٹرول بم حملے کے نتیجے میں ایک دکان میں آگ لگی جس پر فوری اقدامات کرتے ہوئے قابو پالیا گیا جبکہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی سٹی کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچی۔
پولیس نے حملے کے الزام میں تین ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ایس ایس پی سٹی نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران پولیس ضلعی انتظامیہ کو بھرپور سیکیورٹی فراہم کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسسٹنٹ کمشنر حازم بھنگوار تجاوزات کے خلاف پیٹرول بم
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔