پیٹرول اور ڈیزل پر بھاری ٹیکسز کا بوجھ، فی لیٹر 100 روپے سے زائد وصولی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کا بڑا حصہ مختلف ٹیکسوں اور لیویز پر مشتمل ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ توانائی کی دستاویز کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 39 فیصد حصہ ٹیکسز کا ہے، جس سے عوام پر مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فی لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 100 روپے 21 پیسے ٹیکس عائد ہیں۔ اس رقم میں کسٹم ڈیوٹی، پٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہیں۔ اسی طرح ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 94 روپے 93 پیسے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جو اس کی قیمت کا تقریباً 34 فیصد بنتا ہے۔
دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور ڈیلرز بھی فی لیٹر مخصوص مارجن وصول کرتے ہیں، جس سے قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔
واضح رہے کہ حکومت نے حالیہ اعلان میں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے مقرر کی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 32 پیسے اضافے کے بعد 275 روپے 70 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہِ راست ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مرتب ہوتے ہیں، جس سے مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
عوامی حلقوں میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی لا کر ریلیف فراہم کیا جائے، تاہم فی الحال قیمتوں میں اضافے نے صارفین کو ایک بار پھر مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق فی لیٹر کی قیمت
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔