بجلی کی قیمت میں 43 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
نیپرا میں رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے لیے بجلی کی قیمت میں 43 پیسے فی یونٹ اضافے پر سماعت ہوئی، چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی سربراہی میں اتھارٹی نے سماعت کی۔
منظوری کی صورت میں صارفین پر 10 ارب سے زائد کا بوجھ پڑے گا، کپیسٹی پے منٹس کی ادائیگی کے لیے سی پی پی اے ہر تین ماہ بعد درخواست دائر کرتی ہے، قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا، مجموعی طور پر 17 ارب روپے کا بوجھ پڑنا تھا۔
تاہم حکومت کی انکریمنٹل پیکج سے 7 ارب روپے کی کمی ہوئی اور اب صارفین پر 10 ارب 76 کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔
سماعت کے دوران صارفین نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انکریمنٹل پیکج سے بعض صنعتوں کو فائدہ اور بعض کو نقصان ہو رہا ہے، فرنس آئل پر چلنے والی انڈسٹری کو 22 روپے تک یونٹ مل رہی ہے اور پیکج میں شیئر کیے گئے اعداد و شمار درست نہیں۔
صارفین نے نیپرا سے سی پی پی اے کے اعداد و شمار کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا، سی پی پی اے حکام کے مطابق کوارٹر ایڈجسٹمنٹ کے لیے 431 ارب روپے کپیسٹی پے منٹس کی مد میں درکار ہیں جبکہ گزشتہ سال ڈسکوز کو 459 ارب روپے کی ضرورت تھی۔
سی پی پی اے نے بتایا کہ مستقبل میں فرنس آئل کے پاور پلانٹس نہیں چلائے جائیں گے، نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی اور اتھارٹی اعداد و شمار کا جائزہ لے کر فیصلہ جاری کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی پی پی اے ارب روپے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔