گلگت، ایف سی اہلکاروں کی جانب سے بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی خبروں پر نگران وزیر داخلہ کا سخت نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
وزیر داخلہ ساجد علی بیگ نے واضح کیا کہ عوام کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور اگر کوئی بھی فرد اس گھناؤنے فعل میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ نگراں وزیر داخلہ گلگت بلتستان ساجد علی بیگ نے سوشل میڈیا پر فرنٹیئر کور (FC) فورس پر بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات سے متعلق گردش کرنے والی ویڈیو کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ڈی پی او دنیور کو فوری طور پر شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جائے اور حقائق کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ عوامی اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور اگر کوئی بھی فرد اس گھناؤنے فعل میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔