جماعتِ اسلامی بنگلادیش کے ارکان پارلیمنٹ کا مراعات لینے سے انکار، سادہ طرزِ زندگی برقرار رکھنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا: جماعتِ اسلامی بنگلادیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ جماعت کے منتخب اراکین پارلیمنٹ سرکاری مراعات، پلاٹس، گاڑیاں اور رہائش گاہیں قبول نہیں کریں گے اور وہی سادہ طرزِ زندگی اختیار رکھیں گے جو وہ عوامی نمائندگی سے قبل گزار رہے تھے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ایک بیان میں کہا کہ جماعت اسلامی کے نمائندے اقتدار یا مراعات کے لیے سیاست نہیں کرتے بلکہ عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں، پارٹی کے تمام منتخب ارکان نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ سرکاری پلاٹس نہیں لیں گے اور نہ ہی ٹیکس فری گاڑیوں جیسی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے،ہماری زندگیاں ویسی ہی رہیں گی جیسی اب ہیں، ہم عوام کے نمائندے ہیں اور عوام ہی کی طرح زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر منتخب نمائندے واقعی سادہ طرزِ زندگی اپنائیں اور سرکاری وسائل کا بوجھ کم کریں تو اس سے قومی خزانے پر دباؤ کم ہوگا اور عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
واضح رہےکہ پارٹی ذرائع نے کہاکہ جماعت اسلامی نے صرف چار ہفتوں کی انتخابی مہم کے باوجود ملک میں نمایاں کامیابی حاصل کی، حالانکہ ان کے بقول گزشتہ برسوں کے دوران جماعت کو سخت سیاسی دباؤ اور پابندیوں کا سامنا رہا۔
جماعت کے مؤقف کے مطابق ماضی میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو سنگین مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور کئی رہنماؤں کو سزائے موت دی گئی۔ ان میں عبدالقادر ملا، محمد قمر الزماں، علی احسن محمد مجاہد، میر قاسم علی اور مطیع الرحمٰن نظامی شامل ہیں۔ ان سزاؤں کو ملکی عدالتوں نے جنگی جرائم کے مقدمات میں سنایا تھا جبکہ جماعت اسلامی ان فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ جماعت
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :