بنگلا دیش کی جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰان کو 13ویں قومی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف کے طور پر نامزد کردیا گیا ہے۔

بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق، جماعت اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر کو ڈپٹی لیڈر آف اپوزیشن جبکہ جماعت کی قیادت میں قائم 11 جماعتی اتحاد کی اتحادی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے کنوینر ناہید اسلام کو اپوزیشن چیف وہپ کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں نئی سیاسی صف بندی، جماعتِ اسلامی کا پرامن اپوزیشن کا اعلان

آج دوپہر جماعت اسلامی کے نومنتخب اراکینِ پارلیمنٹ نے رکنیت کا حلف اٹھایا اور بعد ازاں آئینی اصلاحات کونسل کے ارکان کے طور پر بھی حلف لیا۔

حلف برداری کی تقریبات جاتیا سنگسد بھون میں منعقد ہوئیں جہاں چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے حلف لیا۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: یورپی یونین کے چیف آبزرور کی ووٹرز کی مثبت شرکت کی تعریف

حلف برداری کے بعد 11 جماعتی اتحاد کے ارکان نے پارلیمنٹ کمپلیکس میں شفیق الرحمٰن کی صدارت میں اجلاس منعقد کیا، جس میں قائد حزب اختلاف، ڈپٹی لیڈر آف اپوزیشن اور چیف وہپ کے عہدوں کے لیے نامزدگیاں کی گئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بنگلہ دیش جماعت اسلامی چیف وہب ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سید عبداللہ محمد طاہر شفیق الرحمان قائد حزب اختلاف ناہید اسلام نیشنل پارٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جماعت اسلامی چیف وہب ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سید عبداللہ محمد طاہر شفیق الرحمان قائد حزب اختلاف ناہید اسلام نیشنل پارٹی قائد حزب اختلاف جماعت اسلامی

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی