بی این پی سربراہ طارق رحمان حلف اٹھا کر بنگلا دیش کے وزیر اعظم بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ڈھاکا: بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان نے شاندار انتخابی کامیابی کے بعد بنگلا دیش کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ ان کی جماعت نے پارلیمانی انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کر کے تقریباً دو دہائیوں بعد اقتدار میں واپسی کی ہے۔
روایت کے برعکس حلف برداری کی تقریب صدارتی محل کے بجائے قومی پارلیمنٹ کی عمارت کے ساؤتھ پلازہ میں کھلے آسمان تلے منعقد ہوئی۔
صدر محمد شہاب الدین نے طارق رحمان اور ان کی کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب میں اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام، سفارت کاروں اور چین، بھارت اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
60 سالہ طارق رحمان سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے اور مقتول صدر ضیاء الرحمان کے بیٹے ہیں۔ وہ 17 سال جلاوطنی کے بعد گزشتہ برس وطن واپس آئے تھے۔ ان کی واپسی کو بی این پی کی انتخابی مہم میں اہم موڑ قرار دیا گیا۔
مزید پڑھیںبنگلادیش انتخابات میں نیا تنازع! جماعت اسلامی اتحاد نے 32 حلقوں کے نتائج چیلنج کر دیے
2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں عبوری حکومت قائم کی گئی تھی جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات محمد یونس کر رہے تھے۔ اسی عبوری دور کے بعد حالیہ انتخابات منعقد ہوئے۔
انتخابات میں جماعتِ اسلامی نے بھی 2013 کی پابندی ختم ہونے کے بعد پہلی بار حصہ لیا اور 68 نشستیں حاصل کیں۔ عوامی لیگ کو الیکشن کمیشن کی جانب سے رجسٹریشن منسوخ ہونے کے بعد انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اپنے پہلے خطاب میں طارق رحمان نے امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی بدامنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے سامنے سیاسی استحکام کی بحالی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور گارمنٹس سمیت اہم صنعتوں کو دوبارہ فعال کرنا بڑے چیلنجز ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔