طارق رحمان نے بطور وزیراعظم بنگلادیش عہدے کا حلف اٹھالیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
بنگلادیش کے حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے بطور وزیراعظم عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
بنگلا دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے جاتیہ سنگساد بھابھن کے ساؤتھ پلازہ میں طارق رحمان سے عہدے کا حلف لیا۔
طارق رحمان کی بطور ویراعظم تقریب حلف برداری میں پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سمیت مختلف ممالک کے مندوبین بھی شریک تھے۔
قبل ازیں نومنتخب ارکان پارلیمنٹ سے بنگلادیش کےچیف الیکشن کمشنر نے حلف لیا تھا۔
12 فروری 2026 کو ہونے والے انتخابات میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) 209 نشستیں جیت کر سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی جبکہ جماعت اسلامی اور اتحادیوں کو 77 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔
یاد رہے کہ اگست 2024 میں بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد شدید عوامی احتجاج کے باعث استعفیٰ دیکر بھارت فرار ہو گئی تھیں جس کے بعد ملک کی باگ دوڑ نوبیل انعام یافتہ معاشی ماہر ڈاکٹر محمد یونس کے سپرد کر دی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔