بنگلا دیش میں جین زی کی انٹری، کیا طارق رحمان نوجوانوں کی امیدوں پر پورا اتریں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ڈھاکا: بنگلا دیش کی سیاست میں ساڑھے تین دہائیوں بعد ایک بڑی تبدیلی سامنے آ رہی ہے جس کا مرکز صرف ایک سیاسی خاندان نہیں بلکہ نوجوان نسل، خصوصاً "جین زی"، بن رہی ہے۔
17 سالہ جلاوطنی کے بعد طارق رحمان کی وطن واپسی کو اسی نوجوان تحریک کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے جس نے 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے طویل اقتدار کا خاتمہ کیا تھا۔
60 سالہ طارق رحمان، جو سابق صدر ضیاء الرحمان اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے ہیں، اب اپنی خاندانی سیاسی وراثت سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی حالیہ سیاسی کامیابی میں نوجوان ووٹرز اور طلبہ تحریک کا اہم کردار رہا ہے۔
طارق رحمان خود کو جدید اور ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسا بنگلہ دیش چاہتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی کو فروغ ملے، میرٹ کو ترجیح دی جائے اور اظہارِ رائے کی آزادی یقینی ہو۔ یہ وہی مطالبات تھے جو 2024 کی احتجاجی تحریک کا مرکز رہے۔
یاد رہے کہ طارق رحمان 2008 میں فوجی حمایت یافتہ نگراں حکومت کے دور میں ملک چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے، تاہم سوشل میڈیا اور آن لائن ذرائع کے ذریعے نوجوانوں سے رابطے میں رہے۔ گزشتہ دسمبر میں وطن واپسی پر ان کا استقبال بڑی تعداد میں نوجوان کارکنوں اور طلبہ نے کیا۔
اب ملک کو درپیش معاشی اور انتظامی چیلنجز کے تناظر میں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا نوجوانوں کا جوش اور طارق رحمان کا سیاسی تجربہ مل کر بنگلہ دیش کو بحرانوں سے نکال سکیں گے۔ نئی نسل عملی نتائج کی خواہاں ہے اور یہی آنے والے دنوں میں نئی قیادت کا اصل امتحان ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔