نوجوان نسل ملک کا روشن مستقبل ہیں ،ثوبان احمد رانجھا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی(نمائندہ جسارت ) اسسٹنٹ کمشنر ماتلی ثوبان احمد رانجھا نے عوامی مفاد اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے سلسلے میں مختلف اقدامات کرتے ہوئے ضلع بدین میں حال ہی میں منعقد ہونے والے اسٹیم (STEAM) مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے ماتلی کے طلبہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے طلبہ کی شاندار کارکردگی کو سراہا اور انہیں مستقبل میں مزید محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اساتذہ اور والدین کی کاوشوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل ملک کا روشن مستقبل ہے اور ایسے مقابلے طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر ماتلی نے بعد ازاں تعلقہ ماتلی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے پرائس چیکنگ مہم کے دوران مختلف بازاروں اور دکانوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کا معائنہ کرتے ہوئے دکانداروں کو ہدایت کی کہ اشیائے ضروریہ مقررہ قیمتوں پر فروخت کی جائیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اسی سلسلے میں انہوں نے مختلف پیٹرول پمپوں کی بھی چیکنگ کی جہاں پیمائش اور نرخوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ پمپ مالکان کو مقررہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایات جاری کی گئیں تاکہ صارفین کو معیاری سہولیات اور درست پیمائش کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔مزید برآں، انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے تعلقہ ماتلی کے مختلف کیوسک اور ہول سیلرز سے غیر قانونی سگریٹ ضبط کیے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ثوبان احمد رانجھا کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اشیا کی فروخت اور سرکاری قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔