عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی 6/6 اور دوسری کی چشمہ لگا کر 70 فیصد ہے‘ وفاقی وزیر قانون
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260217-08-23
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی 6 /6 ہے جبکہ دوسری آنکھ کی بینائی چشمہ لگا کر 70 فیصد ہے۔ شیخورہ بار کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا وکلا کے مسائل کا ادراک ہے اور ان مسائل کا حل ہماری ترجیح ہے، انصاف کی فراہمی میں بار اور بینچ میں تعاون ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مشکل فیصلوں کے نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام اشد ضروری ہے، ریاست پاکستان 4 اکائیوں پر مشتمل ہے، گلگت بلتستان اور کشمیر ہمارا حصہ ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا موٹر ویز اور جی ٹی روڈ کی بندش غیر آئینی اقدام ہے، خیبرپختونخوا حکومت آئین اور قانون کی پاسداری کرے، اگر کے پی حکومت سڑکیں نہیں کھولے گی تو پھر وفاق کو آئین پر عمل کرتے ہوئے ایکشن لینا پڑے گا پھر کسی کو برا نہ لگے، ہم سب نے مل کر اس ملک کو بہتری کی طرف لے جانا ہے۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ طبی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کے جاری علاج پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا، اپوزیشن رہنماؤں اور بانی کے ذاتی معالجین کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی عینک لگا کر70 فیصد ہے جبکہ دوسری آنکھ کی بینائی 6/6 ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز پمز اور الشفاء انٹرنیشنل کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا مکمل اور تفصیلی طبی معائنہ کیا تھا۔ اس سے قبل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی 15 فیصد تک رہ گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے 16 فروری تک بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کی تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔
مرید کے : وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ فیروز والہ بار کی تقریب حلف برداری کے موقع پر خطاب کر رہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا نکھ کی بینائی اعظم نذیر تارڑ بانی پی ٹی ا ئی کا کہنا تھا وفاقی وزیر
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔